اعتراف حق
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتراف حق ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عمر بن الخطاب کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے منافق یہ گمان کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ مگر خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس گئے ہیں جیسا کہ موسیٰ بن عمران گئے تھے۔ وہ اپنی قوم سے چالیس دن کے لیے غائب ہو گئے تھے، پھر ان کی طرف واپس آئے جب کہ یہ کہا جانے لگا تھا کہ وہ مرگئے ۔ خدا کی قسم، رسول اللہ ضرور اسی طرح لوٹ کر آئیں گے جس طرح موسیٰ لوٹ کر آئے۔ پھر آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے جن کا یہ گمان ہے کہ آپ پر موت واقع ہوگئی ہے۔ ابو بکر کو خبر ہوئی تو وہ آئے اور مسجد کے دروازے پر اتراے۔ اس وقت عمر لوگوں کے سامنے تقریر کر رہے تھے۔ ابو بکر سیدھے آپ کے حجرہ میں گئے۔ ابو بکر نے آپ کے چہرہ سے چادر اٹھائی اور اس کو بوسہ دیا ، پھر کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ، اللہ نے جو موت آپ کے لیے مقدر کی تھی، وہ آپ پر آ چکی۔ اس کے بعد اب آپ پر موت کی مصیبت آنے والی نہیں ۔ اس کے بعد ابو بکر نے آپ کے چہرے کے اوپر چادر ڈال دی اور باہر آئے۔ عمر برابر لوگوں کے سامنے بول رہے تھے۔ ابو بکر نے ان سے کہا کہ اے عمر ٹھہرو ، خاموش ہو جاؤ ۔ عمر نے چپ ہونے سے انکار کیا۔ ابو بکر نے جب دیکھا کہ عمر چپ ہونے پر تیار نہیں ہیں تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ لوگوں نے جب ابو بکر کی آواز سنی تو سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر کو چھوڑ دیا۔ ابو بکر نے حمد و ثنا کے بعد کہا کہ اے لوگو، جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد مرگئے ۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے ، وہ کبھی مرنے والا نہیں۔ اس کے بعد ابو بکر نے یہ آیت پڑھی : وما محمد الا رسول قد خلت من اور محمد بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت قبلہ الرسل افان مات او قتل سے رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مرجائیں ان انقلبتم علی اعقابكم ومن ينقلب على یا قتل کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ۔ عقبيه فلن يضر الله شيئا اور جو آدمی پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader