Urdu book · عظمتِ صحابہ

بے نفسی

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

بے نفسی قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کی موت کا وقت آجائے اور اس کو اپنے مال کے بارہ میں وصیت کرنا ہے تو اس کو چاہیے کہ دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا کر وہ اپنی وصیت کرے۔ اس سلسلہ میں احکام بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ بعد کو گواہی دینے کے وقت اگر یہ بات علم میں آئے کہ ان دونوں گواہوں نے گواہی دینے میں کوئی حق تلفی کی ہے تو ان کی جگہ دوسرے دو شخص وراثت کے حق داروں میں سے کھڑے ہوں ۔ جو میت سے زیادہ قریبی تعلق رکھتے ہوں۔ یہ دوسرے دونوں آدمی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی ان دونوں اولیٰ بالشہادہ گواہوں کی گواہی سے زیادہ بر حق ہے (المائدہ ۱۰۷) اس آیت کا ایک ٹکڑا یہ ہے: مِنْ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الأولياء (ان میں سے جن کا کہ حق دباہے جو سب سے قریب ہوں میت کے)۔ اس آیت کے ایک لفظ (الا ولیان) کی قرات میں اختلاف ہے۔ ألحسن نے اس کو الاؤلان پڑھاہے۔ اور ابن سیرین نے اس کو الا ولین پڑھاہے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت یہ ہے : عن ابی مجلز ان أبی بن كعب قرأ ابو مجلز سے روایت ہے کہ ابی بن کعب نے یہ آیت من الذين استحق عليهم الاوليان) پڑھی (من الذین استحق علیہم الاولیان) پس عمر نے ان فقال عمر عنه كذبت - قال سے کہا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ انھوں نے کہا کہ تم خود زیادہ انت اكذب ـ فقال رجل - تكذب جھوٹے ہو۔ یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ تم امیر المومنین امير المؤمنين - قال : انا اشد تعظيماً کو جھوٹا کہتے ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ لحق امير المؤمنين منك ـ ولكن امیر المومنین کے حق کی تعظیم کرتا ہوں لیکن میں نے كذبته في تصديق كتاب الله، ان کو اللہ کی کتاب کی تصدیق کے معاملہ میں جھٹلایا ولم اصدق امير المومنين ہے ۔ میں نے کتاب اللہ کی تکذیب کے معاملہ میں في تكذيب كتاب الله ـ فقال عمر امیر المومنین کی تصدیق نہیں کی عمر نے یہ سن کر کہا کہ صدق (حياة الصحابة (۴۷۴/۲ - (۷۵) انھوں نے سچ کہا۔ اس واقعہ میں ایک صحابی نے دوسرے صحابی پر سخت تنقید کی جو کہ وقت کا سر براہ سلطنت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page