تاریخ ساز
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر عمر نے کہا کہ عمرو بن العاص کے سر پر بھی مارو۔ کیوں کہ خدا کی قسم ، ان کے لڑکے نے انھیں کی بڑائی کے بل پر تم کو مارا تھا۔ مصری نے کہا کہ اے امیر المومنین ، جس نے مجھ کو مارا تھا اس کو میں نے مارا۔ عمر نے کہا کہ خدا کی قسم ، اگر تم ان کو مارتے تو ہم تمہارے اور ان کے بیچ میں حائل نہ ہوتے ۔ یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو۔ پھر انھوں نے عمرو بن العاص سے کہا کہ اے عمرُو ، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا (یا عمرو ، متی استعبدتم الناس وقد ولد تہم امہاتہم احرارا) اس کے بعد عمر مصری کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اطمینان کے ساتھ واپس جاؤ۔ اگر تمہارے خلاف پھر کوئی بات پیش آئے تو مجھے لکھو ( انصرف راشد افان ربك ريب فاكتب الي) ابوالفرج بن الجوزی ، تاریخ عمر بن الخطاب، مطبعة التوفيق الادبية، القاهره صفحه ۹۹۔ ۱۰۰ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ساری انسانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام کون لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے خدا کے دین کی تاریخ بنائی۔ صحابہ سے پہلے خدا کے دین کی حیثیت ایک فکری تحریک کی تھی، صحابہ کے بعد خدا کے دین کی حیثیت ایک حقیقی اور عملی تاریخ کی ہوگئی۔ اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ اس کے دین کی پشت پر ایک تاریخی نمونہ قائم ہو جائے۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ دینی افکار کی بنیاد پر ایک عالمی انقلاب برپا ہو۔ اس قسم کے دور رس انقلاب کے بغیر مذکورہ قسم کا واقعہ تاریخ کے صفحات میں لکھا نہیں جا سکتا۔ مذکورہ واقعہ بلاشبہ خدائی انصاف اور انسانی مساوات کی عظیم الشان مثال ہے مگر اس مثال کو ظہور میں لانے کے لیے بے پناہ قربانیوں کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ پہلے وہ ہمہ گیر انقلاب لایا جائے جو رسول کی قیادت میں صحابہ کرام لے آئے۔ پھر اس کے لیے ضرورت تھی کہ سماج میں صحابہ جیسے مثالی انسانوں کا غلبہ قائم ہو۔ پھر اس کے لیے ضروری تھا کہ جو خلیفہ ایک حاکم کے بیٹے کے جرم پر اس کو کوڑا مارنے کا حکم دے رہا ہے وہ خود اپنے بیٹے کے جرم پر اسی طرح اس کو کوڑا مار چکا ہو۔ اصحاب رسول نے یہ ساری مہنگی قیمت ادا کی۔ وہ اپنی ذات کے لیے جینے کے بجائے خدا کے دین کے لیے جئے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ ان کے ذریعہ سے خدا کے دین کی مطلوب عملی تاریخ بنے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader