Urdu book · عظمتِ صحابہ

بہتر حکمراں

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

استحصال کرتا ہے۔ اگر انفرادی ملکیت کے نظام کو ختم کر کے "سب کی ملکیت" کا نظام قائم کر دیا جائے تو ہر قسم کے ظلم و جبر کی جڑ کٹ جائے۔ اس کے بعد نہ کوئی مالک ہوگا اور نہ کوئی ملوک، پھر کون کس کا استحصال کرے گا۔ کون کس کے اوپر ظلم کرے گا۔ ۱۹۱۷ میں روس میں مارکسی انقلاب آیا اور مذکورہ قسم کا بے ملکیتی نظام بندور قائم کر دیا گیا مگر بعد کے حالات نے بتایا کہ مارکس کا تجویز کیا ہوا بے ملکیتی نظام تاریخ کا سب سے زیادہ ظالمانہ نظام تھا۔ اور وہاں کے حکمراں تمام حکمرانوں سے زیادہ جابر اور متشدد نام نہاد اجتماعی ملکیت کے نظام نے ظلم و جبر میں مزید اضافہ کر دیا۔ اسی طرح بیسویں صدی کے نصف اول میں ایشیا اور افریقہ میں بہت بڑے پیمانے پر نو آبادیاتی نظام کے خلاف آزادی کی تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کے علم برداروں کا کہنا تھا کہ تمام ظلم و فساد کا سبب بدلیسی راج ہے۔ اگر ملک میں دیش کے لوگوں کا راج قائم کر دیا جائے تو ظالمانہ حکمرانی کا اپنے آپ خاتمہ ہو جائے گا۔ قومی آزادی کی یہ تحریک کامیاب ہوئی اور ہر ملک میں خود ملک کے افراد حکومت کے عہدوں کے مالک ہو گئے۔ مگر ظلم و جبر کا خاتمہ نہ ہو سکا ملکی افراد بدستور ظالم حکمراں بنے رہے۔ جو ظلم پہلے بدیسیوں کے ہاتھ سے ہوتا تھا، وہ اب دیش والوں کے ہاتھ سے ہونے لگا۔ خدا کا دین (اسلام) مذکورہ قسم کے تمام دعوؤں کو غلط بتاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انسان کے اندر حقیقی اصلاح صرف ایک چیز سے پیدا ہوتی ہے ، اور وہ اللہ کا خوف ہے۔ اللہ کے ڈر کے سوا کوئی چیز نہیں جو ایک با اقتدار انسان کو عدل اور حق کے معیار پر قائم رکھ سکے۔ صحابہ سے پہلے یہ دعوی ، عام انسان کی نظر میں، صرف ایک دعویٰ تھا۔ کیوں کہ خالص تاریخی اعتبار سے وہ ثابت شدہ نہیں بنتا تھا۔ ان سے پہلے مدون تاریخ میں کوئی ایسی معلوم مثال نہ تھی جو اس نظریہ کو واقعاتی طور پر ثابت کرتی ہو۔ صحابہ نے اس نظریہ کے حق میں واقعاتی مثال قائم کی۔ ان کو اقتدار ملا، مگر وہ اس بگاڑ سے محفوظ رہے جس میں ہر دور کے حکمراں مبتلا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک دعویٰ ہے اور اصحاب رسول اس کی دلیل۔ اسلام ایک نظریہ ہے اور اصحاب رسول اس نظریہ کے حق میں عملی تصدیق۔ ۴م

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page