نئے دور کے نقیب
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
ومن جور الأديان الى عدل الاسلام کی طرف لے آئیں، اور دنیا کی تنگی سے دنیا کی وسعت کی فارتسلنا بدينه الى خلقه طرف، اور رند ہہوں کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف۔ لندعوهم اليه فمن قبل پس اللہ نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف ذلك قبلنا منه ورجعنا عنه۔ بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔ پس جو ومن ابي قاتلناه ابدا حتى نفضنى اس کو قبول کر لے ہم بھی اس سے قبول کر لیں گے اور الى موعود الله (البداية والنهاية، ٣٩/٧) اس سے واپس چلے جائیں گے۔ اور جو کوئی انکار کرے اس سے ہم لڑیں گے یہاں تک کہ اس کو اللہ کے وعدہ تک پہنچا دیں۔ صحابی کے یہ الفاظ کوئی سادہ الفاظ نہ تھے۔ اس میں دراصل اس عظیم انقلاب کی طرف اشارہ تھا جو اصحاب رسول کے ذریعہ لایا گیا اور جس نے عالمی سطح پر انسانی تاریخ کو بدل دیا۔ اس کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ” اسلام دورِ جدید کا خالق “ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا کی صورتِ حال یہ تھی کہ ساری دنیا میں نسلی بادشاہت کا رواج تھا۔ اس بادشاہت نے ہر جگہ جبر کی وہ فضا پیدا کر رکھی تھی جس کو ہنری پرین نے شاہانہ مطلقیت (imperial absolutism) کہا ہے ۔ ایک شخص جس کے سر پر حکومت کا تاج ہو وہ سب کا آقا تھا، اور تمام لوگ اس کے غلام۔ مشرکانہ مذہب اور مطلق شہنشاہیت دونوں نے مل کر فطرت کے سائنسی مطالعہ کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ فطرت میں چھپی ہوئی خدا کی تمام نعمتیں بے دريافت اور غیر استعمال شدہ بنی ہوئی تھیں ۔ مذہب میں مذہبی پیشواؤں کا مکمل قبضہ تھا۔ وہ دنیا میں خدا کے نمائندہ بن کر انسانوں کو اپنا بندہ بنائے ہوئے تھے۔ ان کے گڑھے ہوئے مصنوعی مذہب کے نیچے پوری انسانیت پس رہی تھی۔ اس پیشوائی نظام سے اختلاف کرنے والے کو سخت ترین سزا دی جاتی تھی تا کہ لوگ دبے رہیں اور اس سے بغاوّت کی جُرات نہ کر سکیں ۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ اس حالت کو بدلا جائے۔ اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعہ جبر کے اس نظام کو توڑا۔ انھوں نے انسان کے اوپر خدائی رحمتوں کا وہ دروازہ کھول دیا جو ہزاروں سال سے ان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader