فطری اوصاف
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
اس بگاڑ کی بنا پر انسانی فطرت اور دین خداوندی میں مطابقت باقی نہ رہی۔ انسان اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی وجہ سے پیغمبروں کو پہچاننے اور ان کی آواز پر لبیک کہنے والا نہ بن سکا۔ یہ صورت حال ہزاروں سال تک جاری رہی۔ حضرت ابراہیم کا پیغام جب اہل عراق کو متاثر نہ کر سکا تو انسان کی نااہلی آخری طور پر واضح ہو گئی۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ انسان کو دوبارہ غیر تمدنی دنیا کی طرف واپس لے جایا جائے۔ اس منصوبے کے مطابق، حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسادیا گیا جہاں اس وقت صرف فطرت کا ماحول تھا۔ فطرت کے مناظر کے سوا وہاں کوئی اور چیز موجود نہ تھی۔ اس صحرائی ماحول میں ایک ایسی نسل کی تیاری شروع ہوئی جو تمدن سے مکمل طور پر منقطع ہو کر پرورش پاسکے۔ توالد و تناسل کے ذریعہ یہ نسل بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ڈھائی ہزار سال میں ایک نئی قوم بن کر تیار ہو گئی۔ اس نئی قوم کے ہر فرد میں وہ اعلیٰ فطری اوصاف پوری طرح موجود تھے جو ابتدائی دور کے انسان میں پائے جاتے تھے۔ یہی فطری یا انسانی اوصاف اس صحرائی قوم کی شناخت بن گئے۔ قدیم عربوں میں اعلیٰ انسانیت کو بتانے کے لیے کچھ الفاظ رائج تھے۔ مثلاً الفتوۃ، المروءۃ، الرجولیۃ، وغیرہ۔ اردو میں اس کو جواں مردی یا مردانگی کہہ سکتے ہیں۔ اس سے عربوں کی مراد عین وہی چیز ہوتی تھی جس کو آج ” ابتدائی انسانی اوصاف“ کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بنو اسماعیل کی یہ صحرائی قوم قدیم ابتدائی سماج کا ایک احیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ”معادن عرب“ کے بارہ میں پوچھا گیا۔ فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہوں گے (خیارکم فی الجاہلیۃ خیارکم فی الاسلام) دور اول کے عرب اہل اسلام کے غیر معمولی اوصاف بھی اسی کا نتیجہ تھے۔ انس بن مالکؓ صحابہ کے بارہ میں کہتے ہیں کہ خدا کی قسم، ہم جھوٹ نہیں بولتے تھے اور نہ ہم جانتے تھے کہ جھوٹ کیا ہے (واللہ ماکنا نکذب ولا کتنا ندری ما الکذب) عرب کے صحرا میں اعلیٰ فطری اوصاف سے متصف جوانسان تیار کئے گئے تھے، انھیں کے منتخب افراد ایمان لاکر اصحاب رسول بنے۔ یہ ایک بہترین خام مادہ تھا جو اسلام کی معرفت اور پیغمبر کی رفاقت سے جلا پا کر چمک اٹھا (تفصیل کیلئے : حقیقت حج ۵۴ - ۵۸)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader