Urdu book · دینِ انسانیت

حسن معاشرت

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسروں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے (49:10-12)_ ان قرآنی آیتوں کا خطاب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں دونوں سے ہے۔ دونوں ہی کی فلاح کا طریقہ وہ ہے جو ان آیتوں میں بتایا گیا ہے۔ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں کس طرح رہیں، اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ اس طرح رہیں جس طرح بھائی اور بہن آپس میں رہتے ہیں۔ بھائی اور بہن خونی رشتہ کی بنا پر باہم محبت کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ اسی طرح دینی بھائیوں اور دینی بہنوں کو بھی محبت اور خیر خواہی کے ساتھ باہم مل کر رہنا چاہیے۔ کوئی عورت یا مرد دوسرے کا مذاق کیوں اڑاتا ہے، اس لیے کہ وہ دوسرے کی بڑائی کو ماننا نہیں چاہتا۔ ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کو جب کسی دوسرے کی کوئی نازک بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے اور اپنی بڑائی کی تسکین حاصل کر سکے۔ ایسے عورت اور مرد دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ دوسروں پر عیب لگاتے ہیں، وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page