Urdu book · دینِ انسانیت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 341

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں ہوئی۔ عین اسی سال اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا۔ یمن کے حاکم ابرہہ نے ہاتھیوں کی ناقابل تسخیر فوج کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبتہ اللہ کو ڈھادے۔ مگر معجزاتی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کے اوپر کنکریوں کی بارش ہوئی جس میں ساری فوج بھس بن کر رہ گئی۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا جس نے اہل عرب کی نظر میں توحید کی عظمت کو از سر نو قائم کر دیا اور شرک و بت پرستی کا پورا نظام بے قیمت ہو کر رہ گیا۔ یہی بات ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر 106، 105 میں اشارہ کیا گیا ہے۔ عین اس عظیم مظاہرہ توحید کے زمانہ میں پیغمبر اسلام کی پیدائش ہوئی جو اس لیے دنیا میں بھیجے گئے کہ وہ شرک کو ختم کریں اور توحید کی عظمت دنیا میں قائم کردیں۔ پیغمبر توحید کا عین عام الفیل میں پیدا ہونا خدائی منصوبہ بندی کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔ 2_ پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ توحید کی دعوت کا کام مکہ میں شروع کریں۔ مکہ کی خصوصیت یہ تھی کہ صدیوں کے حالات کے نتیجہ میں وہ عرب قیادت کا مرکز بن گیا تھا۔ مکہ میں بین الاقوامی تجارت اور بین الاقوامی تعلق کی روایات پائی جاتی تھیں۔ چنانچہ یہاں ایسے لوگ موجود تھے جن کو اپنے زمانہ میں اصحاب فکر اور اصحاب قیادت کا درجہ حاصل تھا۔ مثال کے طور پر ابوبکر بن ابی قحافہ اور عمر بن الخطاب وغیرہ۔ اس قسم کے اعلیٰ افراد کو اسلامی تحریک کی حمایت میں لینا ضروری تھا۔ چنانچہ اسلامی جماعت کے بیشتر تاریخ ساز افراد مکہ ہی سے حاصل ہوئے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا میں نظر آتی ہے کہ اے اللہ، اسلام کو ابو الحكم بن ہشام یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ طاقت دے ــ اَللّٰهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِأَبِي الْحَكَمِ بْنِ هِشَامٍ، أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page