Urdu book · دین کامل

سنت رسول

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

نصیحت کے لیے ایک بات کافی ہے صعصعہ بن معاویہ مشہور شاعر فرزدق کے چچا تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے ان کو سورہ زلزال سنائی۔ یہاں تک کہ آپ اس آیت پر پہنچے : فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَّهُ 5 وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَّهُ (جس نے ایک ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا جس نے ایک ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا) حضرت صعصعہ نے اس کو سن کر کہا : حسبی ان لا اسمع غیر ھاراس کے بعد میں کچھ اور نہ سنوں تب بھی میرے لیے کافی ہے) رواہ الامام احمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ نئے اسلام لانے والوں کو کسی صحابی کے سپرد کر دیتے تا کہ وہ ان کو دین کی باتیں سکھا دیں۔ اسی طرح مذکورہ صحابی کو آپ نے حضرت علی ؓ کے سپرد فرما دیا۔ وہ چند دن آئے اور اس کے بعد ان کا آنا بند ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کئی دن تک ان کو مسجد میں نہ دیکھا تو آپ نے حضرت علی ؓ سے ان کے بارے میں دریافت کیا جن کے سپرد ان کی تعلیم ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ کئی دن سے وہ میرے پاس بھی نہیں آئے ہیں۔ آپ نے لوگوں سے کہا کہ ان کا پتہ کر کے بتائیں۔ آخر ایک روز ایک شخص کی ان سے ملاقات ہو گئی۔ وہ لکڑی کا گٹھا سر پر رکھ کر اس کو بیچنے کے لیے بازار جا رہے تھے۔ انھوں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے بارے میں پوچھ رہے تھے، چل کر ملاقات کر لو۔ وہ تیزی سے بازار گئے اور لکڑی کا گٹھا کسی کے ہاتھ بیچ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے کہا کہ تم کئی روز سے ادھر نہیں آئے۔ انھوں نے کہا: میں اس لیے نہیں آیا کہ میں نے سمجھا کہ میری تعلیم پوری ہوگئی۔ آپ نے فرمایا : ابھی تو چند ہی دن گزرے تھے، پھر تمھاری تعلیم پوری کیسے ہوگی۔ انھوں نے کہا : میرے سامنے قرآن کی یہ آیت آئی : فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره (جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا) اس آیت کو جاننے کے بعد اب میرا یہ حال ہو گیا ہے کہ جب بھی کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو یہ خیال آجاتا ہے کہ قیامت میں اس کا انجام کس صورت سے سامنے آئے گا۔ اگر دل کہتا ہے کہ وہ اچھا کام ہے اور اس کا انجام اچھی صورت میں سامنے آئے گا تو اس کو کرتا ہوں اور اگر اس اعتبار سے کھٹک پیدا ہوتی ہے تو رک جاتا ہوں پھر وہ کام مجھ سے نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا : پھر تو تمھارے لیے یہی کافی ہے۔ تابعی اس کو کہتے ہیں جس نے صحابہ کو دیکھا ہو۔ ایک تابعی نے ایک بار اپنے شاگردوں کے سامنے صحابہ کی خصوصیات بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ صحابہ اتنا زیادہ نماز روزہ نہیں کرتے تھے جتنا تم لوگ کرتے ہو۔ ان کی فضیلت یہ تھی کہ ایک چیز ان کے دلوں میں بیٹھ گئی تھی ( ولكنہ شئ دقر فی قلوبھم ) یہ چیز جو صحابہ کے دلوں میں بیٹھی ہوئی تھی وہ اللہ کا خوف تھا۔ اللہ کا خوف اگر آدمی کے اندر پیدا ہو جائے تو گویا ہر چیز اس کے اندر پیدا ہوگئی اور اگر وہ پیدا نہ ہو تو کوئی چیز پیدا نہیں ہوئی ۔ اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتا ہے اس لیے وہ ہر معاملہ میں تو اضح اور انصاف کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اور جب آدمی معاملات کو انسان کا معاملہ سمجھے تو کوئی چیز اس کو ظلم اور گھمنڈ سے روکنے والی ثابت نہیں ہو سکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page