Urdu book · دین کامل

ایمان

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن کو اتنا احساس اور اتنا ذمہ دار بنا دیتی ہے کہ وہ ہر موقع پر وہی کرتا ہے جو اس کے ایمان کا تقاضا ہو ۔ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو اس سے وہی اخلاق اور کردار ظاہر ہوتا ہے جو خداوند ذوالجلال پر زندہ یقین رکھنے والے آدمی سے ظاہر ہونا چاہیے ۔ جب اس کے سامنے کوئی سچائی ظاہر ہوتی ہے تو وہ کسی تحفظ کے بغیر کھلے دل سے اس کا اقرار کر لیتا ہے ۔ جب خدا کی عبادت کی پکار بلند ہوتی ہے تو وہ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر خدا کے آگے سجدے میں گر پڑتا ہے ۔ جب اس کے مال میں سے خدا کا حصہ مانگا جاتا ہے تو وہ بلا تامل خیر اس کو ادا کر دیتا ہے ۔ جب کوئی حق دار اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ پورے انصاف کے ساتھ اس کو اس کا حق پہنچا دیتا ہے ۔ جب وہ کسی سے ایک بات کا وعدہ کرتا ہے تو اس کو پورا کیے بغیر اس کو چین نہیں آتا ۔ اس طرح مومن کا ایمان ہر موقع پر ایک ربانی نور بن کر ظاہر ہوتا ہے ۔ وہ ہر معاملہ میں ربانی کردار کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے ۔ وہ ہر موقع پر وہی کرتا ہے جو اس کو کرنا چاہیے ۔ اور وہ نہیں کرتا جو اس کو نہیں کرنا چاہیے ۔ ایمان ایک فکری انقلاب ایمان کوئی جامد عقیدہ نہیں ، ایمان ایک متحرک فکری سیلاب ہے ۔ ایمان ایک ربانی چشمہ ہے جو کسی بندہ خدا کے سینہ میں بہہ پڑتا ہے ۔ ایمان یہ ہے کہ ایمان آدمی کو اس طرح ملے کہ وہی اس اس کی زندگی بن جائے ۔ وہ ایسی روشنی ہو جس سے اس کا پورا وجود جگمگا اٹھے ۔ وہ ایسا رنگ ہو جس میں آدمی کے سارے معاملات رنگے ہوئے نظر آئیں ۔ ایمان خدا کی موجودگی کو پا لینے کا نام ہے ۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کی عظمتوں میں گم ہو جائے ، وہ احساس خداوندی میں نہا اٹھے ۔ ایمان آدمی کے جذبات کا حمد خداوندی میں ڈھل جانا ہے ۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے خدا تعالیٰ تک پہنچ جاناہے ۔ ایمان ایک بھونچال ہے جو خدا کی معرفت سے آدمی کے اندر اہل پڑتا ہے ۔ ایمان ایک دریا ہے جو خدا کے فیضان کو پا کر آدمی کے دل و دماغ میں جاری ہو جاتا ہے ۔ ایمان خدا کو پا لینا ہے ، اور خدا کو پا ناسب کچھ کو پا لینا ہے ۔ پھر کیا چیز ہے جو اس کے بعد آدمی کو نہ ملے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page