ایک مطالعہ
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
مسجد کے امام نے دہرایا : ہم ہزار سال تک دنیا کے حکمران رہے ہیں۔ اور ہم ہی ہیں جس کو دوبارہ دنیا کے سیاسی تخت پر بیٹھنا ہے۔ بات یہیں تک نہیں رہی۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، کچھ لوگوں نے مزید آگے بڑھ کر یہ اعلان کر دیا کہ _ "ہم محتسب کائنات ہیں، ہمارا منصب ساری کائنات کا احتساب کرنا ہے" یہ بات بلاشبہ مضحکہ خیز حد تک غلط ہے۔ کیوں کہ "محتسب کائنات" اگر کوئی منصب ہے تو وہ صرف خالق و مالک کے لیے سزاوار ہے۔ یہ صرف اللہ عزوجل ہے جو اگر چاہے تو کائنات ارض و سما کا احتساب کرے ۔ اس کے سوا کسی کے پاس نہ اس کی طاقت ہے اور نہ کسی کے لیے ممکن ہے کہ وہ ایسا کر سکے ۔ اس بنا پر اس غیر عقلی اور غیر اسلامی نظریہ کے لیے خدا کی کتاب میں کوئی دلیل نہیں مل سکتی تھی ۔ یہاں رہنماؤں کی شاعرانہ تخئیل نے کام کیا ۔ چنانچہ ابلیس کی ایک خیالی مجلس شوری منعقد کی گئی اور اس کی فرضی روداد مرتب کر کے ابلیس کی زبان سے اس "حقیقت" کا اعلان کر دیا گیا کہ : ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات یہ ایک واقعہ ہے کہ مذکورہ "حقیقت" کا ماخذ خدا اور رسول کے کلام میں کہیں موجود نہیں۔ اور اگر کسی صاحب کے نزدیک موجود ہو تو وہ مجھے ایسی آیت یا حدیث لکھ کر بھیج دیں جس میں یہ "حقیقت" بیان کی گئی ہے کہ مسلمان محتسب کائنات ہیں ۔ مزید یہ کہ اس کو خود ابلیس کا کلام بھی نہیں کہا جاسکتا۔ فن روایت کے مطابق اس میں یہ نقص ہے کہ ابلیس سے راوی کی ملاقات ثابت نہیں۔ اس بنا پر دینی معاملہ میں اس کا حوالہ قطعی غیر معتبر ہے۔ ان تمام کمزوریوں کے باوجود یہ غیر ثابت شدہ کلام ابلیس اتنا پھیلا کہ بڑے بڑے بزرگ اور اکابر اس کو حقیقت واقعہ سمجھ کر دہرانے لگے ۔ بلکہ مسلمانوں کے "مقام و منصب اور ان کی صحیح حیثیت" کو بتانے کے لیے اس کا حوالہ اس طرح دیا جانے لگا گویا اس کو آخری سند کا درجہ حاصل ہو (تعمیر حیات، ۱۰ اگست ۱۹۸۸) کیسا عجیب ہوگا امت مسلمہ کا وہ اسلامی منصب جو قرآن و حدیث میں تو نہ بتایا گیا ہو، البتہ ابلیس کے مفروضہ کلام سے حیرت انگیز طور پر اس کو برآمد کر لیا جائے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان انھیں غلط رہنماؤں کے وارث ہیں۔ ان کا ذہن اپنے نام نہاد رہنماؤں کے شاعرانہ اور خطیانہ اور انشاپردازانہ کلام سے بنا ہے نہ کہ حقیقتِ خدا اور رسول کے سچے کلام سے۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader