Urdu book · دین کامل

تاریخ دعوت

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کے کام کو یکسر چھوڑ رکھا ہے۔ ان پر اپنے تحفظاتی مسائل کا غلبہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بحیثیت قوم ان کا وجود خطرہ میں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ساری توجہ دفاع کے محاذ پر لگا دی ہے۔ یہ فکر ان کے اوپر اتنا زیادہ چھا گیا کہ دعوت کی ذمہ داریوں کا احساس ان کے اندر سے نکل گیا۔ حتیٰ کہ بہت سے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دفاعی کام ہی کو " اسلامی دعوت" کا نام دے دیا ہے۔ یہ سراسر غیر اسلامی اور غیر قرآنی ذہن ہے۔ کیوں کہ قرآن کی رو سے مسلمانوں کے تحفظ کا مسئلہ بھی خود اسی دعوتی کام سے وابستہ ہے۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کا کام کریں تو خدا کی طرف سے ان کے قومی تحفظ کی بھی ضمانت ہے۔ اور اگر وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ کریں تو ان کے قومی تحفظ کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔ ماضی کی تاریخ پہلی بات کا ثبوت ہے اور مسلمانوں کی حال کی تاریخ دوسری بات کا ثبوت ۔ دعوت کے ذریعہ تحفظ یا ایہا الرسول بلغ ما انزل اليك اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب من ربك وان لم تفعل فما بلغت کی طرف سے اترا ہے اس کو پہنچا دو۔ اور اگر رسالته۔ واللہ يعصمك من الناس تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں ان الله لا يهدي القوم الكفرين پہنچایا ۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا ( المائدہ ۶۷ ) اللہ یقیناً منکر لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا ۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں کئی روایتیں حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں ۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب مجھ کو اپنے پیغام کے ساتھ بھیجا تو میں نے اپنے اندر اس کے لیے تنگی محسوس کی۔ اور مجھے خیال ہوا کہ لوگوں میں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں گے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ یہ آیت اتری۔ اس وقت رسول اللہ نے اپنے حجرہ سے سر نکالا اور فرمایا کہ اے لوگو واپس جاؤ۔ کیوں کہ اللہ نے مجھ کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے ( صفوۃ التفاسير، المجلد الاول ، صفحه ۳۵۵)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page