تاریخ دعوت
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
پوری طرح ظاہر کر دی تو اس کے بعد یقینی تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کی حمایت کرنے والے کے ساتھ بھی وہی برا معاملہ کرے گا جو وہ خود حضرت موسیٰ کے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔ مگر رجل مومن نے تبلیغ حق کو دوسرے ہر پہلو پر ترجیح دی اور نہایت کھلے طور پر سچائی کا اعلان کیا۔ قرآن میں رجل مومن کی مفصل تقریر نقل کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے : فواقہ اللہ سیّات ما مکروا وحاق پھر اللہ نے اس کو ان لوگوں کی بری تدبیروں بال فرعون سوء العذاب۔ سے بچایا اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو المومن ۴۵ بُرے عذاب نے گھیر لیا۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رجل مومن کو جو چیز " سیّات ما مکروا " سے بچانے والی ثابت ہوئی وہ دعوت حق تھی۔ رجل مومن کے پاس صرف حق کی معرفت اور اس کی دعوت کا سرمایہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں فرعون کے پاس ہر قسم کی مادی طاقتیں تھیں۔ مگر رجل مومن جب داعی بن کر کھڑا ہو گیا تو خدا کی حمایت اس کے ساتھ ہو گئی۔ فرعون اپنی ساری طاقتوں کے باوجود اس کے خلاف اپنے برے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکا۔ دعوت الی اللہ کے کام پر عصمت و حفاظت کا خدائی وعدہ بلاشبہ یقینی ہے۔ مگر اس وعدہ کی تکمیل حقیقی دعوت ہی کے کام پر ہو سکتی ہے نہ کہ کسی اور کام پر۔ اگر ہم کوئی اور کام کریں اور اس کو " دعوت الی اللہ " کا عنوان دیدیں تو ہمیں ہرگز یہ توقع نہیں رکھنا چاہیے کہ خدا کا وعدۂ حفاظت ہمارے حق میں پورا ہوگا۔ تاریخ کی تصدیق تاریخ حیرت انگیز طور پر اس قرآنی بیان کی تصدیق کرتی ہے۔ دور اول سے لے کر بعد کے زمانہ تک بار بار یہ واقعہ ہوا ہے کہ غیر مسلموں کی طرف سے اہل اسلام کے لیے حفاظت کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اور ہر بار جس چیز نے اس مسئلہ کو حل کیا وہ دعوت الی اللہ ہی کی طاقت تھی۔ دعوت کے ذریعہ حفاظت کی مختلف صورتیں ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ اہل اسلام خدا کی بات کو پوری طرح پہونچا دیں۔ اس کے باوجود مخاطب انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو اس وقت یہ معاملہ براہ راست خدا کا معاملہ بن جاتا ہے۔ خدا کی طرف سے خصوصی مدد آتی ہے جو اہل حق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader