Urdu book · دین کامل

تاریخ دعوت

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

ان اسلام عمر كان فتحا ولقد كنا ما نفضلّى عند الكعبة حتى اسلم عمر فلما اسلم قاتل قريشاً حتى صلى عند الكعبة وصلينا معه) قبائل يثرب کا قبول اسلام اسلام ایک فطری دین ہے۔ وہ ہر آدمی کے دل کے دروازہ پر دستک دیتا ہے۔ اگر کوئی نفسیاتی رکاوٹ حائل نہ ہو تو آدمی اس کو ماننے پر مجبور ہوتا ہے اور اس کی صداقت کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کی ایک تاریخی مثال مدینہ کے انصار (اوس اور خزرج) کا معاملہ ہے۔ کئی دور میں مدینہ سے ایک صاحب زیارت کعبہ کے لیے مکہ آئے ۔ ان کا نام سوید بن الصامت تھا۔ وہ نہایت باصلاحیت آدمی تھے۔ چنانچہ ان کی قوم ان کو الکامل کہتی تھی۔ مکہ میں ان کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت پیش کی۔ سوید نے کہا کہ آپ کے پاس شاید اسی قسم کی چیز ہے جو میرے پاس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکمت لقمان ۔ آپ نے کہا کہ اس کو میرے سامنے پیش کرو۔ انھوں نے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اچھا کلام ہے۔ مگر میرے پاس قرآن ہے جو اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ پھر آپ نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر انھیں سنایا۔ سوید بن الصامت نے اس کو سن کر کہا : ان هذا القول حسن (بے شک یہ بہتر کلام ہے) اس کے بعد ابو الحیسران بن رافع مکہ آئے ۔ ان کے ساتھ قبیلہ اوس کے چند اور افراد تھے۔ اس وقت اوس اور خزرج میں لڑائی چل رہی تھی ۔ اور یہ لوگ خزرج کے مقابلہ میں قریش کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مکہ آئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی بابت سنا تو آپ ان کے پاس آئے ۔ اور ان سے کہا کہ جس چیز کے لیے تم آئے ہو کیا اس سے بہتر چیز کی طرف تمہیں رغبت ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیا چیز ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر انھیں سنایا۔ اس کے بعد مدینہ کے وفد کے ایک نوجوان ایاس بن معاذ نے کہا۔ اے قوم، خدا کی قسم یہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page