Urdu book · دین کامل

تاریخ دعوت

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

بیسویں صدی میں مسلمانوں کا یہ حال سیاسی اعتبار سے تھا۔ مگر عین اسی صدی میں اسلام کی دعوتی طاقت ہر ملک کے لوگوں کو مسخر کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اگر چہ اسلامی دعوت کے میدان میں مسلم قائدین نے کوئی بھی قابلِ ذکر کوشش نہیں کی۔ مگر اسلام اپنی ذاتی قوت سے مسلسل لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا تار ہا ہے ۔ پچھلے ایک سو سال کے اندر دنیا کے مختلف حصوں میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ یہاں ہم ان میں سے کچھ افراد کا نام بطور علامت درج کر رہے ہیں۔ اس فہرست سے اندازہ ہوگا کہ کس طرح پچھلے سو سال کے اندر ہر زمانہ میں لوگ اسلام قبول کرتے رہے ہیں۔ ناموں کے سامنے ان کے قبول اسلام کا سن دیدیا گیا ہے : Prof. Haroon Mustafa Leon England 1822 Mohammad Alexander Russel Webb U.S.A. 1890 Dr Nishikanta Chattopadhya Hyderabad 1904 Lord Headly al-Farooq England 1913 Dr William Burchell B. Pickard England 1922 Sir Abdulla Archibald Hamilton England 1923 Mohammad Leopold Asad Austria 1926 Muhammad Marmaduke Pickthall England 1935 Dr Abdul Karim Germanus Hungary 1940 Dr ali Muhammad Mori Japan 1947 Dr Ali Selman Benoist France 1953 Dr R.L. Mellema Holland 1955 Ibrahim Khalil Phillips Egypt 1960 Prof. A.H.B. Hewett U.S.A. 1966 Umar Bongo (President, Gabon) Gabon 1973 Dr Roger Garoudy France 1982 Moosa Fondi Tanzania 1986 Abdullah Adiar Madras 1987 یہ تمام لوگ وہ ہیں جنھوں نے بطور خود اسلام کا مطالعہ کیا۔ ان کو اسلام کی تعلیمات نے متاثر کیا۔ ان میں سے کئی لوگوں نے اسلام کو براہِ راست سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھی۔ اور آخر کار اسلام قبول کر لیا۔ بیسویں صدی مسلمانوں کے لیے بحیثیت قوم ناکامی کی صدی ہے، مگر عین اسی صدی میں اسلام بحیثیت دین کے مسلسل آگے بڑھتا رہا ہے اور بڑھ رہا ہے۔ حرفِ آخر اسلام کی پوری تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی دعوت اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسلام عین انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ اگر وہ اپنی اصلی صورت میں انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page