Urdu book · دین کامل

ایمانی برکتیں

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

ليزدادوا ايماناً مع ايمانهم (الفتح (۴) حدیبہ کے موقع پر دشمن نے صلح کی تک اتارا تاکہ ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو جائے ۔ طرفہ نثر پیش کی تھی ۔ صحابہ حسب اللہ کی خاطر ان حدیبیہ کے موقع پر دمن ہے صلح کی یک طرفہ شرطیں نہیں تھیں ۔ صحابہ جب اللہ کی خاطر ان یک طرفہ شرطوں پر راضی ہوئے تو انھوں نے ایک نئے ایمان کا تجربہ کیا۔ پہلے اگر انھوں نے اللہ کو بطور ایک خارجی واقعہ کے مانا تھا تو اب انھوں نے اللہ کو اپنی نفی کی قیمت پر مانا۔ اس واقعہ کے ذریعہ انھوں نے اس ایمان کا تجربہ کیا کہ اپنی بڑائی ختم ہو تب بھی وہ خدا کے حکم کو مانیں ۔ اپنی خواہشات پامال ہوں تب بھی وہ خدا کے طریقہ کو نہ چھوڑیں۔ اپنا ذہنی سانچہ ٹوٹے تب بھی وہ اپنی رائے کو خدا کی رائے کے تابع کریں ۔ یہ ہے ایمان پر ایمان کا اضافہ ۔ ایک حدیث اضافہ ایمان کے اس معاملہ کو ایک حدیث قدسی میں تمثیل کے انداز میں واضح کیا گیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : اذا ابتلیت عبدی المومن فصبر فلم یشکنی الی عواده اطلقته من اسرای ثم ابدلته لحما خیرا من لحمه و دما خیرا من دمه ثم یستأنف العمل ( رواه الحاكم عن ابی هریره ) اللہ تعالی نے فرمایا ، جب میں اپنے مومن بندے کو تکلیف میں مبتلا کرتا ہوں پھر وہ صبر کرتا ہے ، وہ حال پوچھنے والوں سے شکایت نہیں کرتا تو میں اس کو اپنی قید سے آزاد کر دیتا ہوں ۔ پھر میں اس کے گوشت کو زیادہ بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو زیادہ بہتر خون سے بدل دیتا ہوں ۔ پھر وہ از سر نو عمل کرنے لگتا ہے ۔ تکلیف پر صبر کرنا یہ ہے کہ آدمی تکلیف کے حالات میں بھی حق پر قائم رہے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کا تجربہ کرتا ہے کہ جو حق اس نے پایا ہے وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ بڑا ہے ۔ ہر دوسری چیز کو کھونا نا قابلِ برداشت ہے ، مگر حق کو کھونا اس کے لیے قابلِ برداشت نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page