Urdu book · دین کامل

اسلام اور سائنس

Urdu book, p. 301

By Maulana Wahiduddin Khan

کا موضوع بن گئے ۔ مظاہر فطرت کی تحقیق و تسخیر کا آغاز مدینہ میں ہوا۔ پھر دمشق اور بغداد اس کے مرکز بنے اس کے بعد یہ لہر سمندر پار کرکے اسپین اور سسلی میں داخل ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جاپہونچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہونچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا انتہائی نقطہ ہے ۔ وہ توحید کے انقلاب کا سکولہ نتیجہ ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا۔ اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہوگئے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نے ابتدأ جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا وہ اسپین تک پہونچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہل مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگرچہ دنیا کا بڑا حصہ سیاسی طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں تھا مگر سائنس کی ترقی کا کام صلیبی جنگوں کے بعد مغربی یورپ کے ذریعہ انجام پا تا رہا۔ مسلمانوں نے اپنے ابتدائی دور میں سائنس کے میدان میں جو ترقیاں کی تھیں اس کا پہلا سب سے بڑا فائدہ ان کو دوسو سالہ صلیبی جنگوں (۱۱۰-۱۲، ۱۰۹۵) میں ہوا۔ اس جنگ میں تقریباً سارا یورپ متحدہ طاقت سے مسلم دنیا پر حملہ آور ہوا تاکہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں کے قبضہ سے واپس لے ۔ مگر انھیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔ ان مہموں میں کروڑوں جانیں اور بے پناہ دولت قربان کردی گئی۔ اور جب یہ سب ختم ہوا تو یورو شلم بدستور " بد دینوں " کے قبضہ میں تھا : صلیبی جنگوں کا خاتمہ مسلمانوں کی کامل فتح اور مسیحی یورپ کی کامل شکست پر ہوا۔ مسلمانوں کی فتح ان کے لیے الٹی پڑی۔ اس کے برعکس عیسائیوں کو ان کی شکست کا زبر دست فائدہ حاصل ہوا۔ مسلمان اپنی سیاسی فتح پر قانع ہو کر رہ گئے۔ کامیابی کے احساس نے ان کی عملی قوتوں کو ٹھنڈا کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page