Urdu book · دین کامل

اسلام اور سائنس

Urdu book, p. 309

By Maulana Wahiduddin Khan

کم تر درجہ کی مخلوق فرض کیا ۔ اس لیے اس نے قیاس کیا کہ عورت جب کم تر درجہ کی مخلوق ہے تو اس کے منھ میں دانت بھی نسبتاً کم ہونے چاہئیں ۔ اس کے برعکس برٹرینڈ رسل کا ذہن دور جدید میں بنا ہے جو ہر چیز کا واقعاتی تجزیہ چاہتا ہے ۔ اس لیے اس نے کہا کہ قیاس کی بنیاد پر مت مالو بلکہ عورت اور مرد دونوں کا منہ کھول کر ان کے دانت کو گنو اور پھر دیکھو کہ دونوں کے دانت برابر ہیں یا ایک دوسرے سے کم ہیں ۔ قدیم زمانہ قیاسی معیار پر باتوں کو ماننے کا زمانہ تھا۔ اس لیے قدیم زمانہ میں یہ ممکن تھا کہ جو مذہب بھی رائج ہو اس کو قیاسی مفروضات کی بنا پر درست مان لیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ میں آدمی کسی بات کو صرف اس وقت مانتا ہے جب کہ اس سے متعلق تمام حقائق کا تجزیہ کرکے وہ اس کی معقولیت کو بالواسطہ یا براہِ راست طور پر جان چکا ہو۔ یہ وہ معیار ہے جس کو منطبق کرنے کے بعد دوسرے تمام مذاہب اپنے آپ رد ہوجاتے ہیں اس کے بعد صرف اسلام باقی رہتا ہے جو سائنسی معیار پر پورا اترے ۔ مذہب توحید سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے اس میں مکمل وحدت ہے ۔ پوری کائنات یکساں قسم کے قانون کے تحت نظر آتی ہے۔ ایک برطانوی سائنس داں پروفیسر آئن را کس برگ (Ian Roxburg) کائنات کیوں اس قدر یکساں ہے (?Why is the universe so uniform) کے زیر عنوان لکھتا ہے کہ کائنات تعجب خیز حد تک یکساں ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزاء میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے ۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کیے گیے ہیں وہ تحکمی اعداد پر مشتمل ہیں، جیسے کسی الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے جو کہ تقریباً ۱۸۰ کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا ایک خالق نے تحکمی طور پر انہیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے وجود کے لیے ان اعداد میں وہی متناسب قدر ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں ۔ پروفیسر آئن را کس برگ کے اصل الفاظ یہ ہیں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page