Urdu book · دین کامل

اسلام دورِ جدید میں

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

گئی ہے۔ یہ ایک تاریخی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان صنعتی ترقی کے اس مقام پر تھے کہ انگلستان کے نامور بادشاہ اوفارکس (وفات ۷۹۶ء) کو ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ وہ اپنے ملک کا سکہ ڈھالنے کے لیے بغداد سے مسلم ماہرین کو بلائے۔ اس وقت انگلستان میں جو سکہ ڈھالا گیا وہ مسلم ممالک کے سکہ (دینار) کی نقل تھا۔ حتی کہ مسلم سکوں کی طرح اس پر کلمہ شہادت بھی عربی رسم الخط میں لکھا ہوا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہزار برس پہلے کے دور میں اسلامی تہذیب ساری دنیا میں کس قدر غالب حیثیت رکھتی تھی ۔ ۴۔ واسکوڈی گاما (۱۵۲۴- ۱۴۶۹) ایک پرتگالی ملاح تھا۔ اس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے ۱۴۹۷ میں ہندوستان اور یورپ کے درمیان سمندری راستہ دریافت کیا جو کیپ آف گڈ ہوپ ہوکر جاتا تھا۔ مگر یہ عظیم کامیابی اس کو ایک عرب ملاح احمد بن ماجد کے ذریعہ حاصل ہوئی اس کی بابت انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۷) نے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں : Vasco da Gama's Arab pilot, Ahmad ibn Majid (7/862). یعنی واسکوڈی گاما کا عرب جہاز ران احمد بن ماجد بر ٹائینکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ دا اسکوڈی گاما جب پرتگال سے چل کر افریقہ پہنچا تو وہاں موز نبیق کے سلطان نے واسکوڈی گاما کو دو مسلم ملاح دینے ان میں سے ایک اس وقت بھاگ گیا جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ پرتگالی مسیحی مذہب کے ہیں : The Sultan of Mozambique supplied Vasco da Gama two (Muslim) pilots, one of whom deserted when he discovered that the Portuguese were Christians (7/861). جس جہاز راں نے واسکوڈی گاما کا ساتھ دیا اس کا نام احمد بن ماجد تھا۔ وہ نہایت ماہر تھا اور سمندری جہاز رانی سے اتنی واقفیت رکھتا تھا کہ اس پر اس نے ایک اہم کتاب لکھی تھی جو مذکورہ سفر کے وقت اس کے ساتھ تھی۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے لکھا ہے کہ بحری جہاز رانی کے موضوع پر ایک خصوصی کتاب احمد بن ماجد کی ہے جس میں بحری جہاز رانی کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۴۹۸ میں یہی احمد بن ماجد تھا جس نے افریقہ سے ہندوستان تک واسکوڈی گاما کی رہنمائی کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page