ایمانی برکتیں
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جو قدیم مکہ کے لوگوں نے آپ پر نہ ڈالی ہو۔ حضرت طارق بن عبد اللہ المحاربی کہتے ہیں کہ میں نے بعثت کے ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذو المجاز کے بازار میں پہلی بار دیکھا تھا۔ آپ لوگوں کے درمیان یہ کہتے ہوئے گزر رہے تھے کہ : یا ایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا (اے لوگو کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، تم فلاح پاؤ گے) آپ یہ کہتے جاتے تھے اور ایک شخص آپ کے پیچھے آپ کو پتھر مارتا ہوا چل رہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ کہتا جاتا تھا : یا ایھا الناس لا تطیعوه فانه کذاب (اے لوگو اس کی بات نہ مانو کیوں کہ وہ جھوٹا ہے ) حضرت عروہ ابن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک بار عبد اللہ بن عمر و بن العاص سے کہا کہ قدیم مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تکلیف پہچانتے تھے اس کا کچھ حال بیان کیجیے۔ عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اتنے میں عقبہ بن ابی معیط آیا۔ اس نے آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر اتنے زور سے کھینچا کہ آپ کا گلا گھٹنے لگا۔ اس طرح کے بہت سے واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ قدیم مکہ میں اسلام کے دشمن آپ کے ساتھ کس قسم کا سلوک کرتے تھے۔ مکہ کے ابتدائی سالوں میں یہ حال تھا کہ نماز پڑھنا یا قرآن کی تلاوت کرنا بھی مشرکین کو گوارا نہ تھا۔ ابن ہشام اپنی سیرت کی کتاب میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نماز پڑھنا ہوتا تو وہ پہاڑ کی گھاٹیوں میں چلے جاتے ۔ وہ اپنی نماز کو اپنی قوم سے چھپاتے تھے۔ (کان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلوا ذهبوا في الشعاب واستخفوا بصلا تهم من قومهم، صفحه، ۲۷۵) قدیم مکہ کے مشرکین صرف برا بھلا کہنے پر نہیں رکھتے تھے، وہ باقاعدہ مار پیٹ بھی کرتے تھے۔ وہ ہر طرح مسلمانوں کو ستاتے تھے جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ یہی سخت حالات تھے جب کہ قرآن میں یہ آیت اتری : فان مع العسر يسرا پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ان مع العسر يسرا بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader