Urdu book · دین کامل

اسلام دورِ جدید میں

Urdu book, p. 331

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ ایک لفظ میں یہ کہ اس نے کمیت کو کیفیت سے جلا کر دیا۔ گیلیلو کے اس فعل نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ آدمی میٹر کو استعمال کر سکے۔ بغیر اس کے کہ اس نے میٹر کے بارہ میں ضروری معلومات حاصل کی ہوں۔ اس طرح فطرت کو کام میں لانے کا دروازہ کھل گیا۔ ٹکنالوجی کو ترقی ہوئی اور بے شمار نئی نئی چیزیں بننے لگیں جو انسان کے لیے مفید ثابت ہوئیں مگر زیادہ مدت نہیں گزری کہ انسان کا عدم اطمینان ظاہر ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں سائنس داں یا انجینئر کا معاملہ اس جاہل بڑھئی سے کچھ بھی مختلف نہیں جو لکڑی کو کاٹ کر فرنیچر بناتا ہے، اگرچہ وہ لکڑی کی کیمسٹری کے بارہ میں کچھ نہیں جانتا۔ بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ گیلیلو نے چیزوں کے جس ظاہری پہلو کو الگ کر کے اس کو سائنس کے مطالعہ کا موضوع بنایا تھا، اس کے بارہ میں بھی انسان کی معلومات حد درجہ ناقص ہیں۔ انسان نہ صرف پھول کی "خوشبو" سے بے خبر ہے بلکہ پھول کی "کیمسٹری" بھی بہت کم اس کے علم میں آتی ہے۔ ایک چیز جس کو متمدن دنیا کا انسان تین سو سال تک علم سمجھتا رہا وہ بھی آخر کار بے علمی ثابت ہوا۔ برٹرینڈ رسل نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے : میں نے اپنی اداسی کے کچھ غیر شخصی اسباب پالیے جیسا کہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی ناخوشی کے ایک گہرے سبب کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ موجودہ صدی کے ابتدائی سالوں میں میں ذاتی پریشانیوں میں بہت زیادہ مبتلا رہا ہوں۔ مگر اس وقت میں کم و بیش افلاطونی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page