اسلام دورِ جدید میں
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وہ کمی ہے جس نے جدید دنیا کے بے شمار لوگوں کو غیر مطمئن کر رکھا ہے۔ باہر سے دیکھنے والوں کو ان کی زندگیاں پر رونق نظر آتی ہیں، مگر اندر سے ان کی روح بالکل ویران ہو چکی ہے۔ اقدار کا مسئلہ یہ مسئلہ جس سے آج کا انسان دوچار ہے، فلسفیانہ لفظ میں اس کو اقدار کا مسئلہ (Problem of values) کہا جا سکتا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ انسان ایک دہری مشکل سے دوچار ہے۔ وہ جانتا ہے مگر نہیں جانتا۔ معلومات کے ڈھیر کے درمیان وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کم سے کم اس پوزیشن میں ہوتا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ کر سکے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ وہ اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ وہ کسی چیز کو اچھا اور کسی چیز کو برا سمجھے۔ وہ اس تمیز کو کسی بھی طرح اپنے آپ سے جدا نہیں کر سکتا۔ مگر جب اپنی عقل یا اپنے علم کے ذریعہ وہ اس کو متعین کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کو متعین نہیں کر پاتاہے۔ جوزف ووڈ کرچ نے اپنی کتاب ”دورِ جدید کا مزاج“ میں اس مسئلہ پر عقلی بحث کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انسان اگرچہ باعتبار فطرت یہ یقین کرنے کی طرف مائل ہے کہ زندگی کا ایک مقصد ہے اور اچھائی اور برائی کا ایک معیار ہے۔ مگر سائنس اس کا کوئی حتمی جواب نہیں دیتی۔ سائنس کی ترقی اس کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کرتی جا رہی ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں اقدار اپنا کوئی موضوعی مقام (Objective status) نہیں رکھتیں۔ انسان اخلاقی معیاروں کی ضرورت محسوس کرتا ہے جس کے مطابق وہ زندگی گزار ارے۔ وہ وجدانی طور پر اس کی مستقل تلاش میں ہے۔ مگر سائنس کی دریافت کردہ دنیا میں خیر و شر کے تصورات کی کوئی جگہ نہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک اخلاقی جانور ہے جو ایک ایسی کائنات میں ہے، جہاں اخلاقی عنصر کا کوئی وجود نہیں : Man is an ethical animal in a universe which contains no ethical element. Joseph Wood Krutch, The Modern Temper, New York, 1929, p. 16 انسان چیزوں کی حقیقت کو جاننا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف چیزوں کے ڈھانچہ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader