جدید امکانات
Urdu book, p. 346
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کی ذمہ داری مسلمان ختم نبوت کے بعد مقام نبوت پر ہیں۔ ان کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے پیغام رحمت کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچائیں۔ ایک طرف یہ حقیقت ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کے حالات اور دنیا کے حالات کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے دوسرے تمام دروازے عملاً مسلمانوں کے لیے بند کر کے صرف ایک دروازہ ان کے لیے کھلا رکھا ہے ۔ اور وہ دعوت الی اللہ کا راستہ ہے ۔ مسلمان پچھلے سوسال سے ساری دنیا میں جدوجہد کر رہے ہیں ۔ مگر ان کی جد و جہد صرف لا حاصل انجام پر ختم ہو رہی ہے ۔ بعض ملکوں میں وہ قومی جد و جہد کر رہے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھیں داخلوں اور ملازمتوں اور ممبریوں میں ریزرویشن دیا جائے ۔ مگر اس جد و جہد سے اب تک بے فائدہ احتجاج کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہیں آیا ہے ۔ بعض ملکوں میں وہ سیاسی جد و جہد کر رہے ہیں۔ یعنی اسلام کو سیاسی نظام کی حیثیت سے قائم کرنا۔ مگر یہاں بھی پر شور کوششوں کے باوجود بے فائدہ اکھڑ پچھاڑ کے سوا اور کچھ انہیں حاصل نہ ہوسکا۔ بعض ملکوں میں وہ صنعت اور ٹیکنالوجی کی راہ سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہاں بھی ایک حقیقت ان کی راہ میں حائل ہے ۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک انڈسٹریل ایج میں بھی داخل نہیں ہوئے اور دنیا آگے بڑھ کر سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہو چکی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میدان میں ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں کہ وہ ہمیشہ دوسری قوموں کے پیچھے چلتے رہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کا راز اقدام میں ہے نہ کہ تقلید اور احتجاج جیسی کارروائیوں میں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اس حال میں کر دیا ہے کہ وہ دعوت کے سوا کسی اور راہ میں حقیقی اقدام کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ گو یا مسلمان آج کا فر نہ توانی نا چہار مسلمان شو کی منزل میں ہیں ۔ وہ یا تو دعوت کی راہ میں آگے بڑھنے کے لیے اٹھیں گے یا بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے ۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک پورا دور پیدا کیا ہے جس نے دعوت کے بے پناہ امکانات کھول دیئے ہیں ۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان کو سمجھ کر انھیں استعمال کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader