Urdu book · دین کامل

جدید امکانات

Urdu book, p. 348

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے اس لیے اس کو ربانی نگاہ حاصل ہو جاتی ہے ۔ وہ حقیقتوں کو بہت دور تک دیکھتا ہے ۔ وہ کسی چیز کے سطحی پہلو میں نہیں اکتاتا بلکہ وہ اس کو اس کی گہرائی تک جان لیتا ہے ۔ قرآن کی آیت (ان مع العسر یسرا) کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مومن عصر میں یسر کو دیکھ لیتا ہے ۔ وہ مشکل میں آسانی کا راز پالیا کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شکایت اور احتجاج مومن کا طریقہ نہیں ۔ مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تاریکی میں روشنی کا راز دریافت کرے اور اعتماد کے ساتھ اپنی منزل کی طرف چل پڑے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے نگاہ ربانی کو کھو دیا ہے وہ چیزوں کو صرف نگاہ انسانی سے دیکھنا جانتے ہیں ، وہ چیزوں کو نگاہ ربانی سے دیکھنا نہیں جانتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے معاملات میں صرف عصر کے پہلو کو دیکھتے ہیں ، وہ اپنے معاملات میں یُسر کے پہلو کو نہیں دیکھ پاتے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا شکایت اور احتجاج میں مبتلا ہونا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اُس چیز سے محروم ہیں جس کو حدیث میں فراست مومن کہا گیا ہے ۔ قرآن کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں جو مقدمہ دائر کیا گیا تھا اس کے بارے میں ہمارے تمام لکھنے والوں نے لکھا اور ہمارے تمام بولنے والوں نے اس پر کلام کیا۔ مگر ہر ایک کو صرف اس کا تاریک پہلو نظر آیا ۔ ہر ایک اس کو ظلم اور تعصب کا واقعہ قرار دے کر اس کے خلاف چیخ پکار کرتا رہا ۔ مجھے کوئی قابل ذکر مسلمان نہیں معلوم جس نے اس واقعہ میں اس کے روشن پہلو کو دیکھا ہو۔ جس نے یہ دریافت کیا ہو کہ ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کو خارج کر کے اس حقیقت کا قانونی اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ لوگوں کو اس واقعہ میں صرف مذہبی تعصب نظر آیا ۔ وہ اس میں مذہبی آزادی کے پہلو کو نہ دیکھ سکے۔ یہی معاملہ اسپین کا ہے ۔ اسپین میں مسلمان دوبارہ آباد ہو رہے ہیں ۔ وہاں سلطان عبد الرحمن الداخل کو دوبارہ مقام دیا گیا ہے ۔ میں نے اس واقعہ کا ذکر بعض تعلیم یافتہ مسلمانوں سے کیا۔ آپ تعجب کریں گے کہ ان کا جواب یہ تھا کہ یہ عیسائیوں کی کوئی نئی سازش معلوم ہوتی ہے ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ایک واقعہ میں کھلا ہوا روشن پہلو ہے مگر وہ لوگوں کو نظر نہیں آتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page