الدین کیا ہے
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں گے مگر وہی چیز موجود نہ ہوگی جس کے نام پر سارا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے، یعنی اللہ کی مطلوب دین داری۔ اس سلسلہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ اقیمواالدین کی آیت قرآن کی سورہ الشوریٰ میں آئی ہے۔ یہ سورہ ثابت شدہ طور پر ایک مکی سورہ ہے، یعنی وہ اس زمانہ میں اتری جب کہ قرآن کے بیشتر حصے ابھی نازل ہی نہیں ہوئے تھے۔ اور قرآن کا وہ حصہ جو شرائع اور احکام سے تعلق رکھتا ہے وہ ابھی اہل ایمان کو دیا نہیں گیا تھا۔ آیت کا یہ زمانہ نزول حتمی طور پر بتاتا ہے کہ اقیمواالدین کی آیت میں الدین سے مراد مکمل دین‘‘ نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اس وقت وہ سرے سے اتراہی نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو احکام ابھی نازل نہ ہوئے ہوں ان کو قائم کرنے کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کی کی سورتوں میں اقیموا الصلوۃ کا حکم ہے۔ اس آیت کا مفہوم بوقت نزول یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ پانچ وقتہ نماز با جماعت قائم کرو کیوں کہ پانچ وقتہ نماز با جماعت کا حکم اس وقت اہل ایمان کو دیا ہی نہیں گیا تھا۔ اسی طرح اقیمواالدین میں بھی سیاسی اور قانونی احکام مراد نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ میں یہ احکام نازل ہی نہیں کئے گئے تھے۔ اسی طرح سورہ الشوریٰ کی مذکورہ آیت میں دوسرے پیغمبروں کا بھی ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کو بھی اسی الدین کے قائم کرنے کا حکم ملا تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، حضرت موسیٰ کے سوا دوسرے پیغمبروں کو سرے سے سیاسی اور قانونی احکام دئے ہی نہیں گئے تھے۔ حتیٰ کہ، ان کی زندگی کے آخری زمانہ میں بھی نہیں۔ ایسی حالت میں ان سابق پیغمبروں کو یہ حکم دینا کہ تم لوگ مکمل دین کو زمین پر قائم اور نافذ کرو، اور بھی زیادہ ناقابل فہم ہے۔ خدا کی شریعت میں ذمہ داری تکلیف بقدر وسع کے اصول پر مبنی ہے۔ اہل ایمان کے لئے کی دور میں اور دوسرے اکثر انبیاء کے لئے ان کی پوری زندگی میں مکمل دین کا نفاذ ان کی وسع سے باہر تھا۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اس وقت انہیں اس کا مکلف قرار دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader