Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے کھیڑ پھاڑ شروع کردے۔ کوئی یہ نظریہ بنائے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اور مکمل نظام سیاسی اقتدار کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے سب سے پہلا کام حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ یہ کہہ کر وہ سارے دین کو سیاست بازی کے رخ پر چلادے۔ اس قسم کی تمام صورتیں دین کی صراط مستقیم سے بھٹکنے کی صورتیں ہیں۔ وہ قرآن کے الفاظ میں تفرق فی الدین ہے نہ کہ اقامت دین (شوریٰ ۱۳)۔ یہ ٹیڑھے راستے ہیں، اور ٹیڑھے راستہ پر چلنے والا آدی قرآن کے الفاظ میں کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچتا۔ مسلمانوں کے درمیان اسلام کے نام سے کوئی سرگرمی جاری ہو تو اس کے اسلامی ہونے کے لئے یہی کافی نہیں کہ اس کے علم بردار اسلام کا نام لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ یہ لوگ اسلام کی صراط مستقیم پر چل رہے ہیں یا ٹیڑھے اور تنگ راستوں میں دوڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی تحریک ”اقامت دین“ کے نام پر اٹھے تب بھی یہ ممکن ہے کہ وہ بظاہر قامت دین کا نام لے، مگر حقیقتاً اس کی سرگرمیاں تفرق فی الدین کے خانہ میں جانے والی ہوں۔ انتہائی ضروری ہے کہ اسلام کا نہایت گہرا مطالعہ کیا جائے تاکہ آدمی تفرق فی الدین سے بچے، اور حقیقی معنوں میں دین کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے والا بنے۔ اقامت دین اور تفرق فی الدین شرع لكم من الدين ما وصى به اللہ نے تمہارے لئے دین سے وہی چیز مقرر کی جس کا نوحا والذي اوحينا اليك وما اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے وصينا به ابراهيم و موسی تمہاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور وعيسى ان اقيموا الدين ولا موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ قائم رکھو دین کو اور اس میں تتفرقوا فيه كبر على المشركين متفرق نہ ہو۔ مشرکین کو وہ بات بہت گراں گزرتی ما تدعوهم اليه الله يجتبى اليه ہے جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو۔ اللہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ اپنی طرف اس کی من يشاء ويهدي اليه من ينيب رہنمائی کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ (شوریٰ ۱۳)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page