خشیت انسانی کے دور کا خاتمہ
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
اب دعوت توحید کے لئے یہ خطرہ نہیں کہ کچھ لوگ صرف اندھی عصبیت کی بنا پر اس کے دشمن ہو جائیں۔ اب مؤحدین کے گروہ کو اس مسئلہ کا سامنا پیش نہیں آسکتا کہ نسلی عصبیت کی بنا پر ان کی دعوت کو رد کر دیا جائے۔ اب مؤحدین کے لئے ایسا ہونے والا نہیں کہ وہ انتہائی پر امن انداز میں اپنی دعوت دیں اور پھر بھی انہیں اپنا کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی فرد یا گروہ ’اسلام خطرہ میں ہے‘ (Islam is in danger) کے تصور کی بنیاد پر کوئی اسلامی تحریک اٹھائے تو وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خلاف زمانہ روش (anachronism) کے ہم معنی ہوگی۔ اب قرآن کے مطابق، وہی اسلامی تحریک درست تحریک ہے جو ’اسلام خطرہ سے باہر ہے‘ (Islam is out of danger) کے نظریہ کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہو۔ مذکورہ قرآنی آیت بتاتی ہے کہ اب اہل اسلام کے لئے ان کی سوچ کا نقطہ آغاز (starting point) کیا ہونا چاہئے۔ حالات خواہ بظاہر جیسے بھی ہوں، اہل اسلام کو یہ یقین کرنا چاہئے کہ بعد کے دور میں اسلام کبھی بھی خطرہ میں نہیں ہو سکتا۔ ان کا طرز فکر ہر حال میں یہ ہونا چاہئے کہ اسلام اب خطرہ سے باہر ہے۔ اس لئے انہیں پیشگی طور پر یہ سمجھ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہئے کہ ان کے منصوبہ کے اجراء اور تکمیل کے لئے اب کوئی حقیقی خطرہ یا حادث موجود نہیں۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر کبھی کسی مقام پر اہل اسلام کی کسی تحریک کو خطرہ کی صورت حال پیش آئے تو اس کا سبب تلاش کرنے کے لئے انہیں باہر دیکھنے کے بجائے خود اپنے اندر دیکھنا چاہئے۔ کیوں کہ یہ خطرہ یقینی طور پر کسی خارجی سازش کی بنا پر نہ ہوگا بلکہ داخلی غلطی کی بنا پر ہوگا۔ اس لئے اب اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ اپنی ساری تو توجہ داخلی کوتاہی کو دور کرنے پر لگائیں نہ کہ باہر کے مفروضہ دشمنوں سے ٹکر اور پر۔ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ : قد افلح المومنون الذین هم فی صلاتهم خاشعون (المومنون ۱-۲) یعنی یقیناً فلاح پاگئے ایمان والے جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader