تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
تقلید اور اجتہاد انسانی ذہن کی دو قسمیں ہیں ــــ تقلیدی اور اجتہادی۔ تقلیدی ذہن اور اجتہادی ذہن کے فرق کو سادہ طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ تقلیدی ذہن سے مراد بند ذہن ہے اور اجتہادی ذہن سے مراد کھلا ذہن۔ تقلیدی انسان کا ذہنی سفر ایک حد پر پہنچ کر رک جاتا ہے۔ اس کے بر عکس اجتہادی انسان کا ذہنی سفر برابر آگے کی طرف جاری رہتا ہے، وہ موت سے پہلے کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس فرق کو ایک مثال سے سمجھئے۔ شیکسپیئر انگریزی زبان کا بہت بڑا ادیب ہے۔ اس کی وفات ۱۶۱۶ء میں ہوئی۔ دوسرا، بعد کے زمانہ کا انگریزی ادیب جارج برناڈ شاہ ہے، جس کی پیدائش ۱۸۵۶ء میں ہوئی۔ زمانہ عمل کے اعتبار سے دونوں کے درمیان تقریباً تین سو سال کا فاصلہ ہے۔ برناڈ شاہ کا مقام انگریزی ادب کی تاریخ میں شیکسپیئر سے کم ہے۔ برناڈ شاہ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ : میرا قد اگرچہ شیکسپیئر سے چھوٹا ہے مگر میں شیکسپیئر کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں ۔ I am samller in stature than Shakespeare, but I stand upon his shoulder. یہ مجتہدانہ طرزِ فکر کی ایک مثال ہے۔ اس طرزِ فکر سے بلند نظری اور حوصلہ مندی پیدا ہوتی ہے۔ جس معاشرہ کے لوگوں میں یہ مزاج ہو وہاں ذہنی ارتقاء کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے گا۔ ہر نسل کے افراد پچھلے لوگوں کے علمی سرمایہ پر اضافہ کریں گے اور اس کو مزید ترقی دے کر اگلی نسل تک پہنچاتے رہیں گے۔ موجودہ مسلم معاشرہ اب مسلم معاشرہ کو لیجئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل تقریباً رک گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر مققلدانہ طرزِ فکر کارواج ہو گیا، اور مجتہدانہ طرزِ فکر کا اس طرح خاتمہ ہو گیا جیسے کہ وہ کوئی برائی ہو اور جس کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہو۔ عام طور پر لوگوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader