تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
سے لکھی گئیں ۔ ان شارحین نے حدیث اور روایت کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی بحثیں کی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بے حد ضروری مواد فراہم کیا ہے۔ یہ مواد بے حد اہم ہے۔ اس سے حدیث کی مختلف جہتیں معلوم ہوتی ہیں جو حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے بلاشبہ ضروری ہیں۔ لیکن اگر بعد کے لوگ حدیث کی ان شرحوں کو حرف آخر قرار دے دیں تو پیغمبر اسلام کی احادیث پر مزید غور و فکر کا عمل رک جائے گا۔ اور یہ فکری ارتقاء کے اعتبار سے بہت بڑے نقصان کا باعث ہو گا۔ مثلاً مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے مختلف علماء نے اس کا جو مفہوم بتایا ہے اس میں حدیث کا ایک اہم پہلو بیان ہونے سے رہ گیا۔ ان مختلف اقوال کو ابن حجر العسقلانی اور دوسرے شارحینِ حدیث کے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے مطابق ، کسی شارح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا سبب ملائکہ کو بتایا ہے۔ کسی نے لکھا ہے کہ آپ نے کراہت بخور (دھونی) کے لیے ایسا کیا۔ کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایسا کیا تھا مگر اب یہ عمل منسوخ ہو چکا ہے۔ (فتح الباری ۳/ ۲۱۵-۲۱۶)۔ ایک قول کے مطابق، آپ نے اس کو پسند نہیں کیا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گزرے اس لیے آپ کھڑے ہوگئے (و كره أن تعلو رأسه جنازة يهودی، فقام) حدیث کی یہ تمام شرحیں علمی اور اصولی اعتبار سے درست نہیں۔ یہ تمام شرحیں ذاتی قیاس پر مبنی ہیں نہ کہ کسی واقعی علمی دلیل پر۔ حدیث کا ظاہری متن واضح طور پر بتاتا ہے کہ آپ نے اس یہودی کو انسان کی حیثیت سے دیکھا اور بحیثیت انسان آپ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ یہ حدیث اپنے متن کے مطابق، احترامِ انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے۔ اب اس معاملہ کو موجودہ زمانہ کی نسبت سے دیکھئے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں احترام مسلم تو ہے مگر اس میں احترام انسانیت نہیں۔ یہ اعتراض بلاشبہ غلط ہے۔ قرآن و حدیث کے مختلف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader