Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

بظاہر ایک غیر صحیح فعل تھا اس کے باوجود آپ نے اس کی تصحیح کی کوشش نہیں کی، کیوں کہ اس وقت کے حالات میں کعبہ کی تعمیر میں یہ تصحیح نئے مسائل پیدا کر سکتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی اس سنت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ زندگی میں بعض اوقات ایسی صورت حال پیش آتی ہے جب کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ کیا درست ہے (what is right) اور کیا نادرست (what is wrong)، بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کیا ممکن ہے (what is possible) اور کیا ممکن نہیں ہے (what is impossible)۔ یہ بے حد اہم بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس اصول کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اکثر نا کامیاں اسی لئے پیش آئی ہیں کہ انہوں نے ممکن اور ناممکن کے اعتبار سے معاملہ کو نہیں دیکھا بلکہ اس کو صرف درست اور نادرست کے اعتبار سے دیکھا اور پھر جو انہیں درست نظر آیا اس کی طرف وہ فورا دوڑ پڑے ۔ حالانکہ حالات کے اعتبار سے اس کا حصول ان کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بے نتیجہ قربانیاں تمام تراسی اصول کو ترک کرنے کا نتیجہ ہیں۔ اس مہلک انجام کا واحد سبب تقلید ہے۔ انہوں نے مذکورہ حدیث کو البخاری کے ترجمہ باب کی بنا پر صرف فضائل مکہ کے اعتبار سے دیکھا، وہ اس کو حکمت حیات کے اصول کے طور پر اخذ نہ کر سکے، وہ تقلید کے دائرہ میں بند ہو کر رہ گئے، وہ اجتہاد کی اگلی منزلیں طے نہ کر سکے جس کے بغیر ترقی کا سفر ممکن ہی نہیں۔ نفاذ احکام میں تدرّج صحیح البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قرآن میں پہلے جو کلام اترا وہ اس کی مفصل سور تیں تھیں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگوں کے دل اسلام پر مطمئن ہو گئے تو اس کے بعد حلال و حرام کی آیتیں اتریں۔ اس کے بعد حضرت عائشہ کہتی ہیں: ولو نزل أول شي لا تشربوا الخمر لقالوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page