تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
نائیجیریا، بنگلہ دیش، وغیرہ وغیرہ۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود کسی مسلم ملک میں اب تک شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہ آسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں طولِ آمد (الحدید ۱۶) کے نتیجہ میں ضعف ایمان پیدا ہو چکا تھا۔ ان کے اندر وہ ذہنی موافقت اور قلبی آمادگی باقی نہیں رہی تھی جو شرعی احکام کو عملی طور پر قبول کرنے کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ان کا حال مذکورہ روایت کے مطابق، یہ ہو گیا تھا کہ جب ان کو خمر اور زنا کے احکام کا مخاطب بنایا جائے تو وہ کہہ دیں کہ: لا ندع الخمر ابداً و لاندع الزنا ابداً۔ مثال کے طور پر اکثر مسلم ملکوں میں پُر جوش مسلم رہنماؤں نے یہ کیا کہ میڈیا کو اسلامائز کرنے کے لئے ٹی وی کے نظام پر قبضہ کیا اور پھر اس کے ذریعہ اسلامی پروگرام دکھانا شروع کر دیا۔ لیکن وہ عملاً مکمل طور پر بے فائدہ رہا۔ کیوں کہ مسلم گھروں میں ٹی وی سیٹ پر جب یہ اسلامی پروگرام آتے تو گھر والے اس کو دیکھتے ہی نہ تھے۔ وہ اس وقت ٹی وی سیٹ کی سوئی گھما کر دوسرا کوئی تفریحی پروگرام دیکھنے لگتے۔ نفاذِ شریعت کی ہنگامہ خیز کوششوں کے باوجود اس کی مکمل ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں اجتہادی فکر موجود نہ تھی۔ وہ صرف تقلیدی فکر کا سرمایہ لے کر میدان سیاست میں کودپڑے۔ اس قسم کے تقلیدی فکر کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو عملاً پیش آیا۔ میدان عمل کی تبدیلی صحیح البخاری میں حضرت ابو ہریرہ کے حوالہ سے ایک روایت ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أُمِرتُ بقرية تأكل القرى، يقولون: يشرب، وهی المدینة (فتح الباری ۴/۱۰۳) یعنی مجھے ایک بستی (کی طرف ہجرت) کا حکم دیا گیا ہے، وہ بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث اپنی صحیح میں کتاب فضائل المدینة (باب فضل المدينة وأنها

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader