تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
مقامات پر اسلام کے نام سے پُر تشدد تحریکیں چلا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں مسلمان بے شمار جانی اور مالی نقصان سے دوچار ہو رہے ہیں۔ مگر اپنے تقلیدی ذہن کی بنا پر وہ مذکورہ حکمتِ نبوی کو دریافت نہ کر سکے۔ حالاں کہ اگر ان کے اندر اجتہادی ذہن ہو تا تو مذکورہ حدیث میں ان کو اس کا حل معلوم ہو جاتا۔ اس کے بعد وہ پر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پر امن طریق کار کا انداز اختیار کر لیتے اور پھر قانون فطرت کے مطابق ، وہ کامیابی کے مرحلے تک پہنچ جاتے۔ مذکورہ مثالوں سے اندازہ ہو تا ہے کہ تقلیدی فکر کیا ہے اور اجتہادی فکر کیا۔ ایک لفظ میں تقلیدی فکر گویا پہلے زینہ پر رک جانے کا نام ہے۔ اس کے مقابلہ میں اجتہادی فکر اگلے زینوں کو طے کرتے ہوئے اوپر کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ پہلا زینہ اگر چہ ابتدا میں ہو تا ہے مگر اس کی اہمیت یہ ہے کہ اگر پہلا زینہ نہ ہو تو اگلے زینوں کا وجود بھی نہ ہو گا۔ مطالعہ حدیث کے درجات ابتدائی دور کے محدثین کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے حدیثوں کی جمع اور تدوین کا انتہائی مشکل کام انجام دیا۔ یہ گویا مطالعہ حدیث کا ابتدائی درجہ تھا۔ اس کے بعد اگلی نسل کا یہ کام ہے کہ وہ حدیثوں کا جامع انڈکس (Index) تیار کر کے حدیثوں سے علمی استفادہ کو آسان بنا دے۔ اس کے بعد اس معاملہ کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں احادیث کی جو تشریحات کی گئیں ان کو مرتب کیا جائے تاکہ ان احادیث کو سمجھنے کے لئے ابتدائی بیک گراؤنڈ معلوم ہو سکے۔ اس کے بعد اس معاملہ کا چوتھا درجہ یہ ہے کہ ان احادیث کا مطالعہ زمانی حالات کے پس منظر میں کیا جائے تاکہ ان احادیث کا تو سیعی مفہوم معلوم کیا جا سکے۔ احادیث کے تو سیعی مفہوم سے کیا مراد ہے، اس کے چند نمونے نے اوپر کی مثالوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح اس معاملہ کا پانچواں درجہ یہ ہو سکتا ہے کہ تمام صحیح احادیث کا مکمل انسائیکلو پیڈیا تیار کیا جائے، تاکہ جدید انسان کے لئے اس کے اپنے مانوس اسلوب میں حدیثوں کا مطالعہ ممکن ہو سکے، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader