تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
مفسر القرطبی نے لکھا ہے: الاستنباط فی اللغۃ، الاستخراج و ھو یدل علی الاجتہاد اذا عدم النص والاجماع (الجامع لأحکام القرآن، ۴۹۳/۵) یعنی استنباط کے معنی استخراج کے ہیں۔ اس کا مطلب ہے نص اور اجماع کی غیر موجودگی میں اجتہاد کر کے شریعت کا حکم معلوم کرنا۔ فقہاء اسلام نے دوسری صدی ہجری میں اجتہاد کا یہی کام کیا۔ عباسی خلافت کے زمانہ میں کثرت سے نئے مسائل پیدا ہوئے ۔ ان مسائل کا براہ راست یا منصوص جواب بظاہر قرآن و سنت میں موجود نہ تھا۔ اس وقت فقہاء اسلام نے اجتہاد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کیا۔ انہوں نے قرآن و سنت کے نصوص سے قیاس یا استنباط کے ذریعہ نئے حالات کے لئے شرعی احکام معلوم کئے ۔ اسی اجتہاد کا یہ فائدہ تھا کہ اہل اسلام کے قافلہ نے بدلے ہوئے حالات میں اپنے لئے شرعی رہنمائی پائی ۔ تاریخ میں ان کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہا۔ مگر دوسری اور تیسری صدی ہجری کے بعد اہل اسلام کے در میان بعض اسباب سے ایک غلط تصور قائم ہو گیا، وہ یہ کہ قرآن و سنت سے براہ راست طور پر جو اجتہاد یا استنباط کرنا تھا وہ اس ابتدائی دور کے فقہاء نے تکمیلی طور پر انجام دے دیا۔ اب براہ راست نصوص سے احکام اخذ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعد کے مسلمانوں کے لئے کرنے کا جو کام ہے وہ یہ ہے کہ وہ ان فقہاء کی کتابوں کو پڑھیں اور ان پر غور کر کے بعد کے زمانوں کے لئے شرعی احکام معلوم کرتے رہیں۔ اس طرح اسلام کی علمی تاریخ میں عباسی دور کے فقہاء کو مجتہد مطلق کا درجہ مل گیا اور بعد کے دور کے فقہاء کو صرف مجتہد مقید کا۔ دور اول کے فقہاء کا اجتہاد قرآن و سنت پر مبنی ہو تا تھا مگر بعد کے علماء کے لئے اجتہاد کا مطلب صرف یہ رہ گیا کہ وہ دور اول کے فقہاء کے دائرہ میں محدود رہتے ہوئے اپنے لئے شرعی احکام کا تعیین کریں۔ فکری المیہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسلمانوں کے فکری المیہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس فکری موقف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader