Urdu book · دین و شریعت

تقلید اور اجتہاد

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مزاج کے تحت 1799ء میں سلطان ٹیپو انگریز کی فوجوں سے لڑے۔ اگرچہ اس کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ وہ خود بھی ہلاک ہوئے اور ان کی وسیع سلطنت بھی ختم ہو گئی۔ انہی نظریات کے تحت 1857ء میں مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑ دی۔ یہ جنگ مختلف شکلوں میں نصف صدی سے زیادہ لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس کا نتیجہ بھی معلوم طور پر مسلم رہنماؤں کی یک طرفہ تباہی کی صورت میں نکلا۔ اس خونی جنگ کا کوئی بھی فائدہ نہ اسلام کو ملا اور نہ مسلمانوں کو۔ یہ ان لوگوں کی مثال تھی جنہوں نے انگریزوں کے معاملہ کو مقلدانہ نظر سے دیکھا۔ تاہم ٹھیک اسی معاملہ میں مجتہدانہ نظر کی ایک مثال بھی تاریخ میں موجود ہے۔ یہ سید محمد رشید رضا مصری (وفات 1935ء) کی مثال ہے۔ وہ 1912ء (۱۳۳۰ھ) میں مولانا شبلی نعمانی کی دعوت پر لکھنو آئے تھے تاکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اجلاس میں شرکت کر سکیں ۔ اس کے بعد وہ دارالعلوم دیوبند آئے جو اس وقت گویا انگریزوں کے خلاف تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند میں ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ دار العلوم کی طرف سے مولانا انور شاہ کشمیری نے تقریر کی ۔ اس کے بعد سید محمد رشید رضا نے جلسہ کو خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عربی زبان میں جو تقریر کی، وہ دارالعلوم دیوبند کی روداد (۱۳۳۰ھ) میں چھپی ہوئی موجود ہے۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا : "اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ غیر مسلموں سے متعلق ہونا چاہئے۔ ہندوستان میں صدہا قسم کے بت پرست ہیں، یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کے پوجنے والے، چاند، سورج، ستاروں اور نہایت لغویات اور خرافات کو پوجنے والے بھی موجود ہیں۔ پس اگر ہمارے پاس دعاة اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہو گی جو اس وقت ہمارے خیال میں بھی نہیں آسکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page