تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
بات کہی جائے تو خواہ بظاہر وہ کسی متعین شخص کے حوالہ سے کہی گئی ہو، مگر وہ ایک اصول پر تنقید ہوتی ہے۔ اس قسم کی تنقید میں شخصیت کا حوالہ ضروری ہے، کیوں کہ شخصی حوالہ کے بغیر تنقید ایک مجہول اظہار رائے بن جائے گی اور تنقید کا اصل مقصد حاصل نہ ہوگا۔ تنقید یا اختلاف رائے کا عمل اسلام کی پوری تاریخ میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ صحابہ کے درمیان آپس میں بہت سے اختلافات تھے اور اکثر کھلے انداز میں اس کا اظہار ہوتا تھا۔ اسی طرح تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء وغیرہ، کے درمیان ہمیشہ اختلافات رہے ہیں اور ان کا کھلا اظہار بھی ہمیشہ کیا جاتا رہا ہے۔ مگر کبھی کسی نے ان اختلافات کو بُرا نہیں بتایا اور نہ یہ کہا کہ اختلاف اور تنقید کا طریقہ ختم کر دینا چاہئے۔ اسلامی تاریخ کے پورے قدیم دور میں تنقید اور اختلاف کو ہمیشہ گوارا کیا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ تنقید واختلاف کو اصول کی نسبت سے دیکھتے تھے نہ کہ شخصیتوں کی نسبت سے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب دِینِ انسانیت، باب ’’حریتِ فکر‘‘) تنقید کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سننا اور اس پر غور کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی شخصیتوں کی عظمت میں گم نہیں ہے۔ اس کے نزدیک اصل اہمیت اصول کی ہے نہ کہ شخصیت کی۔ ایسا آدمی کسی شخصیت کے مجروح ہونے کو گوارا کر لے گا مگر حق کا مجروح ہونا اس کو گوارا نہ ہوگا۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر حقیقی دینی روح زندہ ہو۔ مگر جب کسی قوم پر زوال کا دور آجائے تو اس وقت شخصیتیں ہی لوگوں کا مرجع بن جاتی ہیں۔ اب لوگ اصول کے بارے میں حساس نہیں ہوتے۔ البتہ وہ اپنی محبوب شخصیتوں کے بارے میں بے حد حساس ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ زوال میں تنقید لوگوں کے لئے ایک مبغوض چیز بن جاتی ہے۔ یہ لوگ جب بھی کوئی ایسی تنقید سنتے ہیں جس کی زد ان کے مفروضہ اکابر پر پڑرہی ہو تو وہ سخت برہم ہو جاتے ہیں، ان کی یہ برہمی بظاہر ناقد کے خلاف ہوتی ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ ابھی تک معرفتِ حق کی لذت سے آشنا نہ ہو سکے۔ حق کے نام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader