تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
دو شخصوں کے درمیان ایک موضوع پرڈ سکشن ہے، خواہ بظاہر وہ کسی فرد کے حوالہ سے کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سچی تنقید کبھی کسی شخص کے لئے ذاتی و وقار کا سوال نہیں بنتی۔ کیوں کہ سچی تنقید میں کوئی ذات سرے سے نشانہ پر ہوتی ہی نہیں۔ تنقید اگر صحیح ہو تو وہ آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے ذہن کو درست کرلے۔ وہ غلط فکر کے اندھیرے سے نکل کر صحیح فکر کی روشنی میں آجاۓ۔ وہ اپنے آپ کو علمی اعتبار سے پہلے سے زیادہ درست انسان بنالے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تنقید کرنے والے کی تنقید صحیح نہ ہو تب بھی اس میں یہ فائدہ ہے کہ اس سے موضوع کے مزید گوشے واضح ہوتے ہیں۔ زیر تنقید شخص اگر تنقید کو سن کر برہم نہ ہو تو تنقید اس کی قوت فکر کو بڑھائے گی۔ وہ اس کے اندر تخلیقی فکر(creative thinking) لانے کا سبب بنے گی۔ وہ اس کو موقع دے گی کہ وہ اپنی بات کو زیادہ واضح اور زیادہ مدلل انداز میں پیش کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید ہر حال میں مفید ہے، خواہ وہ صحیح تنقید ہو یا غلط تنقید۔ ١٩۶۵ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں لکھنو میں تھا۔ میری ملاقات ایک غیر مسلم اسکالر سے ہوئی ۔ وہ مذاہب یا مذہبی شخصیتوں کو نہیں مانتے تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے پیغمبر اسلام پر تنقید کی۔ آپ کے خلاف بولتے ہوئے انہوں نے کہا: محمدؐ کو اگر تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی۔ ان کے یہ الفاظ یقیناً اشتعال انگیز تھے۔ اگر میں اس پر غصہ ہو جاتا تو میں صرف یہ کرتا کہ ان کو لعن طعن کرتا اور لاحول ولا قوة پڑھتے ہوئے وہاں سے واپس چلا آتا۔ مگر اللہ کے فضل سے میں نے اپنے ذہنی اعتدال کو باقی رکھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میرے ذہن میں فکری عمل مثبت انداز میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک لمحہ کے بعد میری زبان پر ان کی بات کا یہ جواب آگیا: وہی کمی جو محمدؐ سے پہلے تاریخ میں تھی۔ مذکورہ تنقید نے مجھے پیغمبر اسلام کی سیرت کے ایک ایسے پہلو پر سوچنے پر مجبور کر دیا جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader