تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے زمانہ میں ہندوستان کی مغل سلطنت کمزور ہو گئی تھی۔ اور یہ آثار نظر آنے لگے تھے کہ جلد ہی وہ زوال کا شکار ہو کر ختم ہو جائے گی۔ اس وقت شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کوشش اس پر لگادی کہ یہ مسلم سلطنت کسی نہ کسی طرح دوبارہ مستحکم ہو جائے۔ انہوں نے اس وقت کے مسلم حکمرانوں کو جوش دلایا کہ تم لوگ تلوار لے کر اٹھو اور اپنے دشمنوں سے لڑ کر ان کا خاتمہ کر دو۔ دوسری طرف انہوں نے کابل کے حاکم احمد شاہ ابدالی کو ترغیب دی کہ وہ ہندوستان پر حملہ کر کے سکھوں اور مرہٹوں کا زور توڑ دے تاکہ مغل سلطنت محفوظ ہو کر قائم رہ سکے۔ مگر شاہ ولی اللہ کی یہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنے صرف قریبی اور ظاہری حالات کو دیکھتے تھے۔ عالمی اعتبار سے حالات کا جو نیا سیلاب آ رہا تھا اس سے وہ قطعاً بے خبر تھے۔ نئے سیلاب سے میری مراد ڈیموکریسی کا دور ہے۔ شاہ ولی اللہ کا یہ خیال تھا کہ وہ قائم الزمان ہیں۔ مگر ان کی ساری سوچ جانے والے دورِ بادشاہت میں کام کر رہی تھی۔ آنے والے دورِ جمہوریت میں کیا صورت پیش آئے گی، اس سے وہ مطلع نہ ہو سکے۔ دورِ بادشاہت میں ایک شخص پورے ملک کا حاکم ہوا کرتا تھا مگر دورِ جمہوریت میں عوامی حاکمیت کا اصول رائج ہونے والا تھا۔ اور وہ مسئلہ پیدا ہونے والا تھا جس کو اکثریت کے مقابلہ میں اقلیت کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ اگر حالات کے رخ کو دیکھ پاتے تو وہ اپنی ساری طاقت دعوت کے محاذ پر لگا دیتے۔ جس میں گویا اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کا راز چھپا ہوا تھا۔ دعوت کا مطلب یہ تھا کہ مغل سلطنت اگر ختم ہو جائے تب بھی اہل اسلام اپنی عددی برتری کے زور پر غالب حیثیت کے حامل ہوں گے۔ مگر شاہ ولی اللہ دہلوی دعوت کی اس انقلابی اہمیت سے بالکل بے خبر تھے۔ حتیٰ کہ ان کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں ہر قسم کے ابواب ہیں مگر کتاب الدعوة یا کتاب التبلغ اس کے اندر موجود نہیں۔ اب سید جمال الدین افغانی (وفات ۱۸۹۷ء) کی مثال لیجئے۔ ان کے زمانہ میں انگریز اور فرانسیسی تقریباً پوری مسلم دنیا پر سیاسی اعتبار سے غالب آگئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنی پوری زندگی اس سیاسی غلبہ کو ختم کرنے میں لگادی۔ ان کا نعرہ تھا الشرق للشرقین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader