آئینۂ ملت
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی کتاب کی حقیقت ایک مقدس عہد نامہ کی ہے۔ خدا کی کتاب جب کسی قوم کو دی جائے اور وہ قوم اس کتاب کو خدا کی کتاب کی حیثیت سے قبول کر لے تو ایسا کرنے کے بعد خدا اور اس قوم کے درمیان ایک پختہ عہد قائم ہو جاتا ہے۔ اس عہد کے مطابق، اس قوم کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہو تا کہ وہ خود اس کی پیرو بن جائے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہو تا ہے کہ وہ قوم خدا کے بندوں کے سامنے اس کتاب کی نمائندگی کرے۔ اسی نمائندگی کا دوسرا نام دعوت ہے۔ دنیا کی قوموں کے سامنے خدا کے پیغام کو نہ پہنچانا گویا کتاب الہیٰ کو چھپانا ہے۔ اور دنیا کی قوموں کو اس سے باخبر کرنے کا مطلب خدا کے دین کا اظہار کرنا ہے۔ خدا کی کتاب کا کتمان (اس سے لوگوں کو باخبر نہ کرنا) حامل کتاب گروہ کے لئے ایک نا قابل معافی جرم ہے۔ کوئی بھی عذر اس فریضہ کو اس سے ساقط نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ انسان چونکہ مرتے ہیں اور نئے لوگ پیدا ہوتے ہیں اس لئے اظہار دین یا دعوت حق کا یہ عمل ہر نسل میں جاری رکھنا ہے، اس کو بار بار دہراتے رہنا ہے تاکہ کوئی بھی نسل یا کوئی بھی پیدا ہونے والا انسان اس سے بے خبر نہ رہے۔ دعوت کا یہ کام سادہ طور پر صرف اعلان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کو اس کے تمام تقاضوں کے ساتھ انجام دینا ہے۔ مثلاً لوگوں کی قابل فہم زبان میں اس کو پیش کرنا، مدعو کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرنا تاکہ دعوت کا معتدل ماحول باقی رہے، مدعو سے کسی قسم کی مادی یا سیاسی کشمکش نہ کرنا تا کہ دعوت کی اخروی حیثیت مجروح نہ ہو۔ دعوت کے عمل کے ساتھ کسی بھی غیر دعوتی پہلو کو شامل نہ کرنا تاکہ اس کا خالص پن (purity) باقی رہے، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader