Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

ابتدائی تقاضایہ ہے کہ اس کے حاملین اس کو اپنی زندگیوں میں اختیار کریں۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا لازمی تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے کتاب الہیٰ کا اعلان واظہار کیا جائے۔ کتاب الہیٰ کے پیغام سے لوگوں کو پوری طرح باخبر بنادیا جائے۔ مگر کتاب الہیٰ کا حامل گروہ اپنی بعد کی نسلوں میں جب زوال کا شکار ہوتا ہے تو جس طرح اس سے دوسری مطلوب صفات گم ہو جاتی ہیں، اسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کتاب الہیٰ کی تبیین و تبلیغ کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ کتاب الہیٰ کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ حاملین کتاب کے اندر دوسروں کے لئے خیر خواہی موجود ہو۔ اور دور زوال میں ایسے لوگوں سے جو چیز سب سے زیادہ رخصت ہو جاتی ہے وہ یہی انسانی خیر خواہی ہے۔ اس کام کو درست طور پر صرف وہ لوگ انجام دے سکتے ہیں جن کے اندر یہ اخلاقی بلندی ہو کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں کو نظر انداز کر سکیں۔ مگر زوال یافتہ لوگوں میں یہ اخلاقی بلندی نہیں ہوتی اس لئے وہ کتاب الہیٰ کی دعوتی ذمہ داریوں کو بھی پورا نہیں کرپاتے۔ کتاب الہیٰ کی تبیین کا کام انتہائی نازک کام ہے۔ اس کو صرف ایسے افراد انجام دے سکتے ہیں جو انتہائی سنجیدہ اور بااصول ہوں۔ مگر زوال یافتہ لوگوں میں یہ دونوں صفات سرے سے موجود ہی نہیں ہوتیں۔ ان میں نہ سنجیدگی ہوتی ہے اور نہ اصول پسندی۔ یہی وجہ ہے کہ اس فرض کی ادائیگی میں وہ مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں۔ دور زوال کا یہ مظہر پچھلے حاملین کتاب میں بھی دیکھا جاسکتا ہے اور بعد کے حاملین کتاب میں بھی۔ قول بلا فعل قرآن کی سورہ نمبر ۶۱ میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو، تم ایسی بات کیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page