آئینۂ ملت
Urdu book, p. 293
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ اس سے ان کی مراد عمل ہے۔ کیوں کہ آدمی کا عمل دیکھا جائے گانہ کہ اس کا قول: قال مالك وبلغنى ان القاسم بن محمد كان يقول: ادريكت الناس وما يعجبون بالقول. قال مالك يريد بذلك العمل انما ينظر الى عمله ولا ينظر إلى قوله (مؤطا الامام مالك ٧٠٢) صحابہ کرام دین کے مزاج کو سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ عمل ہے، خوشنما باتوں کی خدا کے یہاں کوئی اہمیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں جب تک صحابہ کرام کا غلبہ تھا، ایسے لوگوں کو کوئی اہمیت نہیں ملی جو حقیقی عمل سے خالی ہوں، البتہ اچھی اچھی باتیں کر کے لوگوں کے درمیان عزت حاصل کئے ہوئے ہوں۔ مگر جب معاشرہ میں تقویٰ کی فضاباقی نہ رہے تو اسی قسم کے خوش کلام لوگ معاشرہ پر چھاجاتے ہیں وہ اپنے خوشنما الفاظ کے ذریعہ لوگوں میں عزت اور احترام کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ خدا کی نظر میں بے قیمت ہیں۔ آخرت میں ایسے لوگوں سے کہا جائے گا کہ تم عزت اور شہرت کی صورت میں پچھلی دنیا ہی میں اپنی قیمت پاچکے، آخرت کی دنیا میں اب تمہیں کچھ ملنے والا نہیں۔ اشاعتِ فاحشہ غزوہ بنو المصطلق ٦ھ کے بعد حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ مدینہ کے کمزور مسلمانوں نے اس واقعہ کو ایک فتنہ کی شکل دے دی۔ اس کو لے کر انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔ بدنام کرنے کی یہ مہم اتنی بڑھی کہ کچھ مخلص مسلمان بھی اس سے متاثر ہوگئے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کی سورہ نمبر ۲۴ میں ارشاد ہوا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader