Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنا جو کسی شخص کو سماج میں بد نام کرنے والی ہو۔ زوال یافتہ سماج میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں بری باتوں کو سننے سے بہت دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ الزام اور حقیقی واقعہ میں فرق نہیں کر پاتے۔ ایک بے ثبوت الزام کو بھی وہ اسی طرح مان لیتے اور بیان کرتے ہیں جس طرح ثابت شدہ واقعہ کو۔ یہ کسی سماج کی بد ترین حالت ہے ایسے لوگوں کے بارے میں سخت اندیشہ ہے کہ وہ خدا کے غضب کا شکار ہو جائیں۔ حامل کتاب قرآن کی سورہ نمبر ۶۲ میں یہود کے بارے میں کہا گیا ہے کہ..... وہ لوگ جنھیں تو رات کا حامل بنایا گیا پھر انھوں نے اس کو نہیں اٹھایا۔ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (الجمعه- ۵) آسمانی کتاب کا حامل بننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو اٹھانے والا اس کو انسان کی حیثیت سے اٹھائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو اس طرح اٹھایا جائے جیسے کوئی حیوان اپنی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ پہلی صورت میں یہ ہوگا کہ کتاب کو اٹھانے والا انسان اپنے ذہن اور قلب کے اعتبار سے اس کا حامل بنا ہوا ہوگا۔ وہ کتاب کی تعلیمات کو اپنی حقیقی زندگی میں اور اپنے قول و عمل میں شامل کئے ہوئے ہوگا۔ اس کے برعکس حیوان کی پیٹھ پر جب کوئی کتاب لادی جائے تو وہ صرف اس کے پیٹھ کے اوپر ہوگی وہ اس کے اندرونی وجود میں داخل نہیں ہوگی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی امت جب اس حال میں ہو کہ خدا کی کتاب اس کے دماغ میں اتری ہوئی ہو اور اس کی روح میں سرایت کئے ہوئے ہو تو ایسی حالت میں وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page