شریعت اور دین کا فرق
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ میں یروشلم کے باہر مدینہ جیسی کوئی جگہ موجود نہ تھی، جہاں جا کر زیادہ بہتر حالات میں نیا دعوتی مرکز بنایا جا سکے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ٢٣ سالہ زندگی میں حالات و واقعات کی جو ترتیب ہے وہ تاریخ اسلام کا ایک جز ہے نہ کہ عقیدہ اسلام کا ایک حصہ۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام نے مکہ میں پرامن دعوت کے انداز میں کام کیا۔ اس کے بعد آپ خاموش طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ اس کے بعد جہاد (بمعنی قتال) کے واقعات پیش آئے اور آخر کار مکہ فتح ہو گیا۔ اب واقعات کی اس ترتیب کو لے کر اگر کوئی یہ کہے کہ اسلامی تحریک تین مرحلوں کا نام ہے ــــ دعوت، ہجرت، جہاد، تو یہ صحیح نہ ہوگا۔ اس لئے کہ یہ ترتیب مقدس عقیدہ پر قائم نہیں ہے۔ اس کی یہ ترتیب تمام تر زمانی حالات نے قائم کی نہ کہ کسی غیر متغیر عقیدہ و نظریہ نے۔ اس کا تعلق منہاج سے ہے نہ کہ الدین سے۔ اس کی حیثیت تمام تر اضافی (relative) ہے۔ وہ حالات کی بنا پر بننے والی ایک تاریخ ہے نہ کہ عقیدہ کی بنا پر بننے والی ایک مقدس ترتیب۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، منہاج (method) میں فرق کا معاملہ صرف پچھلے نبیوں کے درمیان فرق کا معاملہ نہ تھا۔ یہ اصول ختم نبوت کے بعد بھی امت مسلمہ میں بدستور جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منہاج میں فرق کا معاملہ جس اصول پر مبنی ہے وہ ایک ابدی اصول ہے، یعنی خارجی حالات میں فرق کا پیدا ہونا۔ حالات کا یہ فرق ہمیشہ مختلف صورتوں میں پیش آتا رہتا ہے۔ اس لیے منہاج میں فرق کی ضرورت بھی بار بار پیش آتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانہ میں آمرانہ بادشاہت کا رواج تھا۔ تمام امور ایک جابر حکمراں کے اختیار میں ہوتے تھے اس بنا پر کسی خدا پرست گروہ کے لئے دینی زندگی گزارنا یا تو اس وقت ممکن ہو تا تھا جب کہ وہ حکمران کے دائرہ اقتدار سے باہر چلا جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader