Urdu book · دین و شریعت

شریعت اور تطبیق شریعت

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ پیغمبر اور آپ کے ساتھی ہجرت کر کے مدینہ چلے مگر اب حالات بدل چکے تھے۔ چنانچہ نئے حالات میں حکم بھی بدل گیا۔ اس سے پہلے جس صبر کی ہدایت دی گئی تھی اس ظلم کے بارے میں اب یہ ہدایت دی گئی کہ ایسے ظالموں کے ، قال کرو: أذن للذين يُقتلون بانهم ظلموا (الحج ۳۹) اس سے معلوم ہوا کہ کبھی ظلم کے مقابلہ میں دفاع مطلوب ہوتا ہے۔ اور کبھی یہ مطلوب ہے کہ اپنی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے ہوئے صرف صبر کیا جائے۔ اب سوال یہ ۔ یہ کیسے معلوم ہو کہ کس صورت حال میں صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کرنا ہے اور وہ کون رت حال ہے جب دفاعی قتال جائز ہو جاتا ہے۔ دور اول کے اہل اسلام کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے خود کوئی فیصلہ نہیں ا۔ کیوں کہ عملاً جو صورت حال ہوتی تھی اسی کے مطابق جواب آسمان سے نازل ہوتا تھا۔ رح سوال اور جواب دونوں بیک وقت اپنے آپ معلوم ہوتے رہتے تھے۔ مگر بعد کے ں کے لئے یہ صورت حال باقی نہیں رہی۔ بعد کے زمانہ کا معاملہ یہ ہے کہ حالات کی سے سوال تو موجود ہے مگر اس کا جواب مسلمانوں کو خود تلاش کرنا ہے۔ یہی بعد کے زمانہ کے اہل اسلام کا امتحان ہے۔ دور اول کے اہل اسلام کا امتحان اگر رسول تھا تو بعد کے لوگوں کا امتحان حکم رسول کو پہچاننا ہے۔ اب قرآن میں مذکورہ دونوں قسم کی یک ساتھ موجود ہیں۔ اب خود اہل اسلام کی یہ اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ بے آمیز غور و فکر یعہ یہ جانیں کہ کسی وقت خاص (given situation) میں کون سا حکم ان کو اپنے اوپر رنا ہے، اور کس حکم کو اس وقت خاص میں اپنے لئے گویا عملاً موقوف سمجھنا ہے۔ حکم کی اس کا تعین پہلے وحی کے ذریعہ براہ راست ہوتا تھا اور اب یہ تعین ہمیں ذاتی اجتہاد کے ذریعہ ایک اور مثال لیجئے۔ پیغمبر اور آپ کے ساتھی جب مکہ میں تھے اس وقت بھی مشرکین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page