تکمیل دین
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
كما تقول الآن كمل لنا الملك و كمل لنا نريد بان كفينا من كنا نخافه...... فأما أن يكون دين الله عز و جل في وقت من الاوقات غير كامل فلا (لسان العرب، مطبوعہ بیروت، ۱۱/ ۵۹۸) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دی ۔ اس کا مطلب یہ ہے، اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے، اب میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا، اس طرح کہ میں تمہارے دشمن سے خوف کے معاملہ میں تمہارے لئے کافی ہو گیا اور میں نے تم کو ان کے اوپر غالب کر دیا۔ جس طرح تم کہتے ہو کہ اب ہمارا اقتدار ہمارے لئے مکمل ہو گیا۔ اور ہمارے لئے وہ چیز کامل ہو گئی جس کو ہم چاہتے تھے، اس طرح کہ ہم ان پر کافی ہو گئے جن سے ہمیں خوف تھا۔ اور یہ کہ اللہ عز و جل کا دین کسی بھی وقت غیر کامل رہا ہو تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ تفسیر کی کتابوں میں عام طور پر کسی آیت کے تحت مختلف اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ قول بھی تفسیر کی کتابوں میں عام طور پر موجود ہے۔ یہاں چند حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے: و قیل "اکملت لكم دينكم" بأن اهلكت لكم عدوكم واظهرت دينكم على الدين كله كما تقول: قد تم لنا مانريد اذا كفيت عدوك (الجامع لاحکام القرآن ۲/ ۶ ) اور کہا گیا ہے کہ میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا، یعنی میں نے تمہارے لئے تمہارے دشمن کو ہلاک کر دیا اور میں نے تمہارے دین کو سارے دین پر غالب کر دیا۔ جیسا کہ تم کہتے ہو کہ جو ہم چاہتے تھے وہ ہمیں پورا ہو گیا۔ جب کہ تم اپنے دشمن پر کافی ہو جاؤ۔ مفسر النسفی نے سورہ المائدہ کی اس آیت کے تحت لکھا ہے: اليوم ظرف لقوله

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader