تکمیل دین
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت اس کو مکمل دین مل جاتا ہے۔ توحید کی صورت میں وہ سب کچھ پالیتا ہے۔ اس لئے قرآن میں سب سے زیادہ توحید پر زور دیا گیا ہے۔ بلکہ قرآن کی تمام آیتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر توحید ہی کا بیان ہیں۔ ایک امریکی اسکالر جس نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اسلام پر ایک کتاب تیار کی ہے، اس نے اس حقیقت کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: The greatest concern of Islam is Allah. پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں اسلامی دعوت کا کام شروع کیا اور لوگوں سے کہا کہ ایھا الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا۔ تو یہ ”ناقص دین“ کی دعوت نہ تھی بلکہ وہ پورے معنوں میں کامل دین کی دعوت تھی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس دور میں مکہ کے جو لوگ ایمان لائے وہ اسلام کی تاریخ ساز شخصیت تھیں مثلاً ابو بکر صدیق، عمر فاروق، عثمان بن عفان اور علی بن ابی طالب، و غیرہ۔ ان لوگوں کا ایمان و اسلام مکی دور ہی میں مکمل تھا، ایسا نہیں کہ وہ بعد کو مکمل ہوا جب کہ تمام آیتیں نازل ہو گئیں۔ اصل یہ ہے کہ نظریہ توحید کی حقیقت اسلام میں بیج کی مانند ہے۔ بیج جب زمین میں جگہ پکڑ لے تو اس کے بعد وہ اپنے آپ میں کامل درخت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسی طرح جس انسان کو توحید کی حقیقت حاصل ہو جائے وہ اسی کے ساتھ مکمل مومن کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک ہے شخصیتِ مومن، اور دوسری چیز ہے خارجی احوال۔ مومن کی شخصیت اسی دن مکمل ہو جاتی ہے جب کہ اسے اللہ کی کامل معرفت حاصل ہو جائے۔ البتہ خارجی احوال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ خارجی احوال میں تکمیل یا استحکام اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کہ اہل اسلام کو اپنے ماحول میں عملاً غالب حیثیت حاصل ہو جائے، یہی واقعہ مذکورہ آیت کے نزول کے وقت عرب میں پیش آیا۔ تفسیری فرق کے نتائج مذکورہ تفسیری فرق کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader