Urdu book · دین و شریعت

تکمیل دین

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

سوا کوئی اور مذہب اختیار کرنا چاہتا تو اس کا یہ فعل ریاست سے بغادت کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا۔ ایسے لوگوں کو وہی سزا دی جاتی تھی جو باغیوں کے لئے مقرر تھی۔ یہی تصور ہے کہ قدیم زمانہ میں مذہبی ایذار رسانی (religious persecution) کا سنگین مسئلہ پیدا کیا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ فتنہ کا خاتمہ کر دیں۔ اولاً پرامن کوشش کے ذریعہ۔ اور اگر فریق ثانی جارحیت پر اتر آئے تو وہ لڑ کر اس کو مٹا دیں (البقرہ ۲۹۳)۔ اس کے مطابق، پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے ایک عظیم جدوجہد شروع کی۔ تاہم اس قسم کا ہزاروں سال سے رائج شدہ نظام کبھی فوری طور پر ختم نہیں ہوتا۔ وہ نسل در نسل کی کوششوں کے بعد ختم ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعہ اس کے تسلسل کو توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ فتنہ کے خلاف یہ تحریک ایک عمل کے طور پر تاریخ انسانی میں شامل ہو گئی۔ یہ عمل مختلف صورتوں میں برابر جاری رہا یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں وہ اپنی آخری تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی آزادی کا زمانہ آ چکا ہے۔ آج عالمی طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہر انسان ناقابل تنسیخ طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ وہ کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے مذہب پر عمل کرے۔ قرآن کے مذکورہ الفاظ گویا یہ بتا رہے ہیں کہ اب تاریخ کی تشکیل جس انداز پر ہونے والی ہے اس میں مذہبی جبر کا امکان ہی سرے سے ختم ہو جائے گا۔ کسی بھی شخص یا ادارہ کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ وہ اہل توحید پر ان کے دین کے سلسلہ میں کوئی رکاوٹ ڈالے___ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا کہ منکرین حق اب تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ اب تم انسانی خوف سے مامون ہو کر اللہ کے دین کی پیروی کر سکتے ہو۔ ۲۔ اس سلسلہ میں دوسری چیز اکمال دین یا تکمیل دین ہے۔ یہ الفاظ بھی محض وقتی الفاظ نہیں ہیں وہ اس پوری تاریخ کی نوعیت کو بتاتے ہیں جو اسلامی انقلاب کے بعد دنیا میں بننے والی تھی۔۔ اور آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں یہ تاریخی عمل پورا ہو کر اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page