Urdu book · دین و شریعت

اسلام اکیسویں صدی میں

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

نفرت اور تشدد کا مذہب ہے۔ اس کے بعد لوگ اسلام سے متنفر ہو گئے، جب کہ اس سے پہلے وہ پر شوق طور پر اس کی طرف راغب ہو رہے تھے۔ ایک جائزہ اس "حادثہ" کی تاریخ مزید پیچھے تک جاتی ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں قتال کے واقعات ہوئے۔ اولاً عرب کے سرداروں سے اور پھر ایرانی سلطنت اور رومی سلطنت سے۔ اس جنگ کو قرآن میں قتال برائے استیصال فتنة قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ایک وقتی آپریشن (operation) تھا۔ اس کے ذریعہ یہ مطلوب تھا کہ مذہبی جبر (religious persecution) کا دور دنیا سے ختم ہو جائے اور اہل توحید کو یہ موقع ملے کہ وہ مذہبی آزادی کی فضا میں اپنی دینی اور دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔ یہ گویا ایک خدائی آپریشن تھا۔ اس کا آغاز ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔ اور خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں تقریباً اس کی تکمیل ہو گئی۔ اب وہ وقت آ گیا کہ اہل اسلام اس اصول کو اختیار کر لیں جس کو جاپانیوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد عمل معکوس (reverse course) کا نام دیا تھا۔ یعنی پر تشدد عمل کا طریقہ چھوڑ کر پر امن عمل کا طریقہ اختیار کرنا۔ ابتدائی دور کے اہل اسلام میں بعض افراد ایسے ملتے ہیں جن کو اس حقیقت کا واضح شعور حاصل تھا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ اب مذہبی جبر ختم ہو چکا ہے۔ اس طرح وہ رکاوٹ دور ہو چکی ہے جس کو دور کرنے کے لئے قتال کیا گیا تھا۔ اس لئے اب ہمیں یہ کرنا ہے کہ قتال کو چھوڑ کر اسلام کے ایجابی عمل میں مشغول ہو جائیں۔ یعنی دعوت و اصلاح اور تعلیم و تربیت کا میدان۔ اس سلسلہ میں پہلا قابل حوالہ قول وہ ہے جو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد عبد اللہ بن زبیر کی جماعت اور بنو امیہ کے در میان جو مسلح سیاسی ٹکراؤ ہوا، اس میں حضرت عبد اللہ بن عمر شریک نہ تھے۔ اس وقت کچھ لوگ آپ کے پاس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page