تمهید
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی تعلیم تمہید پہلی بار جب میں ایک بڑے مدرسہ میں گیا تو اس کو دیکھ کر اچانک میری زبان سے نکلا۔ مدینۃ العلم (علم کا شہر)۔ ہر مدرسہ گویا علم کا ایک شہر ہے، اس واحد فرق کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی بڑا شہر ہے اور کوئی چھوٹا شہر۔ دورِ اول میں جب مسلمان مختلف ملکوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے اس قسم کے علمی شہر قائم کئے ۔ یہ تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ تھا۔ قدیم زمانہ میں عمارت کے نام سے یا تو بڑے بڑے بت کدے (Temples) بنائے جاتے تھے یا محل اور قلعے اور مقبرے ۔ جدید معنوں میں تعلیم گاہیں بنانے کا کوئی رواج ہی قدیم زمانہ میں نہ تھا۔ ایک مغربی محقق نے بجا طور پر لکھا ہے کہ صدی صد تعلیم (hundred percent literacy) کا تصور پہلی بار مسلمانوں نے تاریخ میں پیدا کیا۔ مسلمانوں کے اندر یہ علمی مزاج کہاں سے آیا۔ یہ براہِ راست قرآن کا نتیجہ تھا۔ قرآن کو کھلے ذہن کے ساتھ پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سب سے زیادہ زور علم اور تعلیم و تعلم پر دیا گیا ہے۔ بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن پہلی کتاب ہے جس نے علم کو محدود دائرہ سے نکالا اور تاریخ انسانی کو عمومی تعلیم (mass education) کے تصور سے آشنا کیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۷۰ ء میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ پر پہلی وحی ۶۱۰ء میں اتری جب کہ آپ غار حرا میں تھے۔ وحی کا پہلا لفظ یہ تھا: اقرأ (پڑھ)۔ روایات میں آتا ہے کہ خدا کے فرشتہ جبریل نے آپ کے پاس آکر کہا کہ اقرأ (پڑھ) آپ نے فرمایا کہ : ما انا بقارئ (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی) یعنی مجھے پڑھنا نہیں آتا۔ جبریل نے دوبارہ کہا کہ اقرأ۔ آپ نے فرمایا کہ ما انا بقارئ ۔ جبریل نے تیسری بار کہا کہ اقرأ۔ اس کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader