قیامت
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
قیامت ہر روز رات کے بعد دن آتا ہے۔ جو چیزیں رات کے وقت اندھیرا رے میں چھٹی ہوئی تھیں ہر نور رات کے بعد دن آتا ہے ۔ جو چیزیں رات کے وقت اندھیرے میں چھپی ہوئی تھیں وہ دن کے اجالے میں ایک ایک کرکے سامنے آ جاتی ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا کے بعد آخرت کی دنیا آئے گی ۔ اس وقت تمام حقیقتیں دن کی روشنی کی طرح کھل جائیں گی ۔ آج آدمی اپنی برائی کو مصنوعی اعمال میں چھپا لیتا ہے۔ کسی کو خوبصورت الفاظ مل گئے ہیں جو اس کی باطل پرستی کو حق پرستی کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ کسی کے لئے اس کی ظاہری رونقیں اس کی باطنی گندگی کا پردہ بن گئی ہے۔ ہر آدمی کی حقیقت ”رات “ کی تاریکی میں ڈھکی ہوئی ہے۔ مگر قیامت اس طرح کے تمام پردوں کو پھاڑ دے گی ، وہ دن کی روشنی کی طرح ہر چیز کو اس کی اصلی حالت میں دکھا دے گی ۔ وہ وقت بھی کیسا عجیب ہوگا جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ اس دن ہر آدمی وہاں کھڑا ہوا دکھائی دے گا جہاں وہ حقیقتہً تھا نہ کہ اس مصنوعی مقام پر جہاں وہ آج اپنے کو وہاں کھڑا ہوا ہے ۔ وہیں کھڑا رہتا ہے وہاں رہ سہ کر یہ شاہدہ اس کے پلے کتنے لوگ جو آج اقتدار کے مالک بنے ہوئے ہیں اس دن ان کے پاس عجز اور بے چارگی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ کتنے لوگ جو آج انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اس دن وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے نظر آئیں گے۔ کتنے لوگ جو آج اہم شخصیت کا درجہ پائے ہوئے ہیں اس دن وہ کیڑے مکڑوں سے زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔ کتنے لوگ جن کے پاس آج ہر بات کا شان دار جواب ہے اس دن وہ ایسے بے جواب ہو چکے ہوں گے جیسے کہ پاس ان ہر بات کا نشان دار جواب ہے اس طرح کا ہے یہ جواب ہرچند ان کے پاس الفاظ ہی نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader