آدمی کا امتحان
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کا امتحان زندگی کا سارا معاملہ امتحان کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص بظاہر اچھے حالات میں ہے اور کوئی بظاہر برے حالات میں۔ مگر اس اعتبار سے دونوں یکساں ہیں کہ دونوں امتحان کے ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں ہر آدمی کا امتحان لیا جارہا ہے۔ کسی کا امتحان ایک قسم کے حالات میں ہے اور کسی کا دوسرے قسم کے حالات میں۔ اللہ ہر آدمی کو مختلف قسم کے حالات میں ڈال کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اپنے حالات میں کس قسم کا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ اسی رد عمل پر آدمی کے آخرت کے انجام کا فیصلہ ہونا ہے۔ اللہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس میں ایک شخص حق پر ہوتے ہوئے کمزور پڑ جائے اور دوسرا شخص ناحق پر ہوتے ہوئے مضبوط حیثیت حاصل کرلے، اب جس شخص نے دوسرے سے معاملہ کرنے میں حق کا لحاظ کیا وہ جنتی ٹھہرا اور جس شخص نے دوسرے سے معاملہ کرنے میں موقع پرستی کا طریقہ اختیار کیا وہ جہنم کا سزاوار ہوگیا۔ اللہ تعالی ایسے مواقع پیدا کرتا ہے جس میں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔ اب جس شخص نے ایسے موقع پر تواضع کا طریقہ اختیار کیا وہ جنتی قرار پایا اور جس نے گھمنڈ کا مظاہرہ کیا وہ جہنمی بن گیا۔ اللہ تعالی کسی کو کمزور بناتا ہے اور کسی کو طاقت ور۔ اب جس شخص نے انصاف کے پہلو کو اہمیت دیتے ہوئے اس کے مطابق لوگوں کے ساتھ معاملہ کیا وہ جنت کا مستحق ٹھہرا اور جو شخص طاقت ور کے آگے جھکے اور کمزور کو ذلیل کرے وہ جہنم کا مستحق ہوگیا۔ اسی طرح آدمی کی زندگی میں روزانہ جو معاملات پیش آتے ہیں وہ اس کے لئے خدا کی طرف سے امتحان کے پرچے ہیں۔ ہر روز آدمی اپنے رویہ سے یا تو اپنے کو جنت کی طرف لے جاتا ہے یا جہنم کی طرف۔ آدمی کی زندگی میں ہر روز دو راستے کھلتے ہیں۔ آدمی ایک رخ پر جاکر اپنے کو جنت میں داخل کر دیتا ہے اور دوسرے رخ پر جاکر اپنے کو جہنم میں گرا لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader